• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی و ایرانی وفود مذاکرات جاری رکھنے پر متفق، ایک ملاقات اور ہوگی

کراچی (ٹی وی رپورٹ)سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ مذاکرات مکمل ناکام قرار نہیں دیئے جاسکتے، سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ امریکی و ایرانی وفود مذاکرات جاری رکھنے پرمتفق ہیں، ایک ملاقات اور ہوگی۔ وقت مقام کا تعین بعد میں ہو گا مریکی نائب صدر نے کہا کہ سیز فائر کو توسیع کیلئے براہ راست رابطے کئے جائیں گے ، مذاکرات میں ایرانی اسپیکرنے واضح کیا پر ہم س لبنان پرمجھوتہ نہیں کرینگے اور جے ڈی وینس نے اس معاملہ پر لچک دکھائی۔ جیو نیوز کے پروگرام"نیا پاکستان "میں سینئر صحافی و تجزیہ کار کامران یوسف اور ماہر معیشت محمد سہیل نے بھی شہزاد اقبال سے گفتگو کی۔تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ پاکستان کی میزبانی اور ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونیوالے مذاکرات بغیر کسی اتفاق کے اختتام کو پہنچ گئے ہیں اور مذاکرات کی اس طویل نشست کے بعد دونوں ممالک کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے مگر مثبت بات یہ ہے کہ کوئی معاہدہ نہ ہونے کے باوجود دونوں فریقین نے آنیوالے دنوں میں بات چیت سے انکار کیا اور نا ہی عارضی جنگ بندی کے خاتمے کا اشارہ دیا ہے۔امریکی اور ایرانی وفود واپس اپنے ملک روانہ ہوگئے اور اس امید کیساتھ واپس گئے ہیں کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور مسلسل رابطے کے ذریعے تنازع کا سفارتی حل نکالا جاسکتا ہے جبکہ دونوں فریقین نے پاکستان کی مثبت کوششوں کا کھل کر اعتراف بھی کیا ہے۔ سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جیو نیوز کے پروگرام"نیا پاکستان "میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ اختتام پذیر ہونیوالے مذاکرات نہ تو کسی بڑی پیشرفت کی صورت اختیار کرسکے اور نہ ہی مکمل ناکامی قرار دیئے جاسکتے ہیں بلکہ یہ ایک درمیانی نوعیت کی سفارتی پیشرفت رہی ہے اور یہ توقع رکھنا کہ چند گھنٹوں میں اتنے پیچیدہ اور حساس معاملات حل ہوکر کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے کیونکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور طویل سفارتی عمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا دوبارہ دھمکی آمیز بیان آیا ہے اس بیان سے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ صدر ٹرمپ اب کیا کرنے جارہے ہیں اور میرے خیال سے دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو اور صدر ٹرمپ صرف اپنی ڈیمانڈ منوانا چاہتے ہیں اور ان ٹرمز پر ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ نہیں ہوگا ۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس انہوں نے صرف اتنا کہا ہے کہ ہماری ڈیل نہیں ہوسکی اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ مذاکرات بے نتیجہ تھے اور میری معلومات یہ ہیں کہ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ایک لمبی نشست ہوئی اور اس نشست کے آخری میں دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کچھ معاملات ایسے ہیں جس پر ہمارا اتفاق ہوسکتا ہے اور کچھ معاملات ایسے ہیں جس پر ہمیں اپنی لیڈرشپ سے گائیڈلائنز لینے کی ضرورت ہے اور جن معاملات پر دونوں کے درمیان اتفاق ہوا ہے وہ بتانے کیلئے بالکل تیار نہیں تھے لیکن کچھ انفارمیشن ہم نے حاصل کرلی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور ان دونوں فریقین کے درمیان ایک ملاقات اور بھی ہوگی اور اس ملاقات کا وقت مقام کا تعین بعد میں کیا جائے گا ۔ایک اور بڑی خبر یہ ہے کہ جے ڈی وینس اور قالیباف کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ مجھے صدر ٹرمپ سے بات چیت کرنے دیں ہم میڈیا پر اس موضوع کو زیر بحث نہیں لائیں گے اور ہماری دوباری ملاقات ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ سیز فائر کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی اور اس سیز فائر کو توسیع دینے کیلئے ایک دوسرے کیساتھ براہ راست رابطے کیے جائیں گے ۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دوبارہ بیان دیا جس میں انہوں نے سخت زبان استعمال کی اور انہوں نے کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی نہیں کریگا اور میری انفارمیشن یہ ہے کہ اس معاملے پر امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان کافی بات چیت ہوئی ہے اور اس پر اتفاق رائے کے امکانات موجود ہیں اور یہ کوئی مین ایشو نہیں ہے جو کہ ہڈل بن سکتا ہے اور اس پر امریکا اور ایران کے درمیان اتفاق ہوسکتا ہے ۔جب وزیراعظم شہبازشریف نے سیز فائر کا اعلان کیا تھا تب انہوں نے واضح طور پر کہا تھا یہ سیز فائر لبنان میں بھی ہوگا اور جو اصل ہڈل تھی ان مذاکرات میں جس پر ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے واضح کیا کہ اس پر ہم سمجھوتہ نہیں کرینگے اور جے ڈی وینس نے اس معاملہ پر لچک دکھائی اور کہا کہ ہم اس بارے میں صدر ٹرمپ سے بات کرینگے اور ہم کوشش کررہے ہیں کہ امریکا میں لبنان اور اسرائیل کے مذاکرات کروائے جائے اوراس ایجنڈا پر اس معاملہ کو لایا جائے ۔ یہ ایک معاملہ ہے جس کی وجہ سے دونوں اطراف نے روانگی سے قبل مذاکرات کی تفصیلات پر کوئی بات نہیں کی کیونکہ یہ معاملہ بہت بڑا ہڈل تھا ۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار کامران یوسف نے کہا کہ وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے جاری ٹیلی وائس بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونیوالے مذاکرات اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے جس طرح ثالثی کا کردار ادا کیا ہے آئندہ بھی اسی طرح اپنا سفارتی کردار جاری رکھے گا اور ہم سب چاہتے تھے کہ اگر کوئی حتمی معاہدہ نہ ہوں تو کم از کم فریم ورک کے اوپر معاہدہ دونوں فریقین کے درمیان ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جو بیان دیا تھا اس کے بعد صدر ٹرمپ خاموش تھے مگر پھر ان کی طرف سے ایک بیان آیا اور انہوں نے کہا کہ ایران سے مذاکرات میں کئی نکات پر اتفاق ہوا ہے لیکن ایک اہم نقطہ ایسا تھا جس پر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے اور وہ ایران کی جانب سے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق حتمی کمٹمنٹ دینے سے متعلق عدم آمادگی تھی جسے موجودہ ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے لیکن پاکستان اب بھی اپنی کوششیں جاری رکھے گا ۔ ماہرمعیشت محمد سہیل نے کہا کہ جس انداز میں پاکستان نے سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تعلقات کو موثر انداز میں استعمال کیا ہے اس سے ایک مثبت امید پیدا ہوئی ہے اور صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی ممالک کی مارکیٹس کھلیں گی تو تیل کی قیمت کا معلوم ہوسکے گا ۔شروع میں قیمت کافی زیادہ ہائی تھی اور پاکستان کی کوششوں سے بہت زیادہ کم ہوگئی ہیں ۔سعودی عرب نے اپنے تیل کی سپلائی کو بھی کھول دیا ہے اس کا بھی اثر ہے اور کافی سارے فیکٹرز ہیں جو تیل کی قیمتوں کا تعین کرینگے جب پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مارکیٹس کھلیں گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای کی جانب سے ساڑھے تین ارب ڈالر کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے پاکستان نے طے کرتے ہوئے پورا کرنے کا فیصلہ کیا اور سعودی عرب اور قطر اس میں معاونت فراہم کررہا ہے تاحال واضح نہیں ہوسکا کہ یہ مالی معاونت کس مد میں دی جائے گی۔

اہم خبریں سے مزید