کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے شہرِ قائد میں اسٹریٹ کرائم کے سونامی اور ڈاکوؤں کی جانب سے شہریوں کو گھات لگا کر لوٹنے کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ حکومت کی دانستہ نااہلی اور کراچی کے عوام کو معاشی طور پر کنگال کرنے کی منظم سازش قرار دیتے ہوے کہا کہ جس بے دردی سے شہر کو لٹیروں کے حوالے کیا گیا ہے اب سندھ حکومت کو چاہیئے کہ وہ منافقت کا لبادہ اتار پھینکے اور وزارتِ لوٹ مار کو بھی باقاعدہ صوبائی کابینہ کا حصہ بنا دے،کراچی کا کوئی محلہ اور کوئی شاہراہ اب محفوظ نہیں رہی مسلح ڈاکو اب صرف لوٹ مار نہیں کر رہے بلکہ مزاحمت پر شہریوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کر رہے،یہ محض امن و امان کی خرابی نہیں بلکہ کراچی کے شہریوں کو دیوار سے لگانے اور انہیں معاشی طور پر مزید مفلوج کرنے کی ایک ایسی پالیسی کا تسلسل ہے جس کی ڈوریاں ایوانِ اقتدار سے ہلائی جا رہی ہیں، شہر میں ہونے والی لوٹ مار پولیس اور انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہو رہی ہے جو مجرمانہ خاموشی کا ثبوت ہے، مہنگائی کے مارے عوام سے ان کی رہی سہی جمع پونجی چھین کر انہیں خودکشیوں پر مجبور کیا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر کراچی کے شہریوں کو ان کے مینڈیٹ کی سزا دی جا رہی ہے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، اگر سندھ حکومت نے فوری طور پر اپنی روش نہ بدلی اور شہر میں قیامِ امن کے لئے ہنگامی اقدامات نہ کئے تو عوام کا پیمانۂ صبر لبریز ہو جائے گا، کراچی کے عوام کو اب بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جائے گا اور اس ظلم کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی، اراکینِ صوبائی اسمبلی ایم کیو ایم پاکستان نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمران یاد رکھیں کہ جب ریاست ڈاکوؤں کی ڈھال بن جائے تو پھر عوام اپنا تحفظ خود کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور وہ وقت اب دور نہیں۔