• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امید یہی ہے سیز فائر میں توسیع ہوجائے گی، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ) تجزیہ کاروں شاہزیب خانزادہ،شہزاد اقبال، زاہد محمود،ہما بقائی اور مریم فاطمہ نے کہا ہے کہ امید یہی ہے سیز فائر میں توسیع ہوجائے گی، دونوں فریقین کسی درمیانی راستے یا مڈپوائنٹ پر پہنچ کر مذاکرات کے ذریعے حل نکال سکتے ہیں، امریکا اور ایران دونوں جانب یہ تسلیم کیا گیا کہ کچھ ریڈلائنز تاحال زیر غور نہیں آسکیں۔ وہ جیو نیوز کی خصوصی نشریات ”اسلام آباد مذاکرات امن کی اُمید“ میں گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کی خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار شاہ زیب خانزادہ نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے اور سیز فائر ابھی تک برقرار ہے اور امید یہی کی جارہی ہے کہ سیز فائر میں توسیع ہوجائے گی اور ذرائع کے مطابق فوری بریک تھرو کی توقع کی جارہی تھی اور خیال تھا کہ دونوں ممالک طویل نشست کے دوران نیو کلیئر معاملے پر پیشرفت کرینگے تاہم یہ ہدف مشکل دکھائی دیاجبکہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان پر جہاں مثبت اشارے دیئے گئے وہیں سخت موقف بھی اختیار کیا گیا ہے جس میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے دیگر ممالک کے جہازوں کی گزرگاہ محدود کرتا ہے تو امریکی نیوی ممکنہ طور پر نیول بلاکیڈ کے ذریعے اس پورے راستے کو بند کرسکتی ہے یعنی یا توسب کے جہاز گزریں گے یا کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ کل کے مذاکرات مثبت رہے لیکن اس بات کی توقع نہیں تھی کہ اتنا بڑا بریک تھرو ہوجائے گا کہ دونوں ممالک کے تمام اختلافات ختم ہوجائیں گے مگر ساتھ ہی انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف نے اپنی فورسز کو ہدایت دی ہے کہ وہ دوبارہ جنگ کی تیاری کریں یعنی اسرائیل لبنان یا ایران پر مزید حملے کرتا ہے تو دوسری جانب سے بھی جوابی حملے کئے جائیں گے ۔ایران 28فروری سے پہلے مذاکرات میں اپنے جوہری ہتھیار کے حوالے سے امریکی کی جو ڈیمانڈ ہے اس پر مان گیا تھا مگر صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے کہنے پر حملہ کیا اور پورے ایران کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے اور موجودہ صورتحال میں اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ ایران مذاکراتی عمل میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے حاصل ہونیوالے ممکنہ فائدے کو حد سے زیادہ استعمال نہ کریں اور دوسری جانب صدر ٹرمپ کی نئی دھمکیاں آئی ہیں جس میں ممکنہ طور پر نیول بلاکیڈ کے آپشن کا ذکر کیا گیا ہے اس سے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ چین ایران سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتا ہے اور جاری کشیدگی کے دوران بھی یہ سلسلہ برقرار رہا ہے تاہم کسی بھی ممکنہ بحری ناکہ بندی کی صورت میں یہ صورتحال چین کیلئے بھی قابل قبول نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ساتھ پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک بھی ایسے کسی اقدام کو قبول کرنے کے حق میں نہیں ہونگے کیونکہ اس کے عالمی توانائی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر ایک مثبت فضا سامنے آئی ہے اور ابتدائی جائزوں میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ محض ایک عام تنازع نہیں بلکہ ایک پیچیدہ عمل کا حصہ ہے ،اس لئے اسے سادہ مذاکرات یا معمول کی سفارتکاری نہیں بلکہ ایک بڑے تنازع سے جڑا ہوا تدریجی اور مسلسل عمل قرار دیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو ایک سفارتی زاویے سے دیکھا جارہا ہے وہ اپنے موقف اور ممکنہ آپشنز واضح کرتے ہوئے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر صورتحال کو مزید آگے بڑھایا گیا یا حد سے زیادہ جارحیت اختیار کی گئی تو امریکا کی حدود متعین ہیں اور سیاست اور اتحادیوں کے تناظر میں قابل قبول سمجھ سکتا ہے تاہم اس سے آگے جانے کی گنجائش موجود نہیں اور ایران بھی اپنی حدوں کا تعین کریگا جبکہ دونوں فریقین صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بالآخر کسی درمیانی راستے یا مڈپوائنٹ پر پہنچ کر مذاکرات کے ذریعے حل نکال سکتے ہیں ۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار شہزاد اقبال نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز شروع ہونیوالا مذاکراتی دور جس میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ قالیباف کررہے تھے و ہ آ ٓج صبح اختتام پذیر ہوگیا ہے اور یہ مذاکراتی راؤنڈ کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوا اور فوری طور پر کوئی پیشرفت سامنے نہیں آسکی تاہم اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات بدستور جاری ہے اور سفارتی سطح پر رابطے منقطع نہیں ہوئے اور کوششیں تاحال جاری ہیں اور یہ امید بھی برقرار ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ایک دیرپا اور پائیدار امن کا راستہ نکالا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اور ایرانی وفد کے کچھ لوگ ابھی اسلام آباد میں موجود ہیں تو اس سے صاف ظاہر ہیں ابھی مذاکراتی عمل جاری ہے اور سیز فائر برقرار ہے اور ابتدائی مرحلے میں پاکستان نے امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان رابطہ کاری کی تاہم بعد ازاں دونوں وفود نے براہ راست مذاکرات کئے جن میں اہم امور زیر بحث آئے ۔ہمارے ذرائع کے مطابق کچھ بریکس سمیت مختلف مراحل میں بھی مشترکہ شرکت دیکھنے میں جسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا اور اس نوعیت کے مذاکرات ماضی میں کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں ۔یہ بھی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ بہت سارے ایسے نکات جن پر دونوں فریقین بہت زیادہ قریب پہنچ چکے تھے لیکن کچھ نکات ایسے ہیں جن پر مکمل معاہدہ نہیں ہوا ہے خاص طور پر یورینیم اور اسٹیٹ آف ہرمز کے حوالے سے یہ دو ایسے نکات ہیں جن پر ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا ۔ابھی تک امریکا اور ایران کی طرف سے ایسا کوئی بیان نہیں آیا جس سے ہم یہ تاثر لیں سکیں کہ جو دو ہفتے کا سیز فائر تھا وہ ختم ہوگیا ہے اور جس قسم کے یہ مذاکرات ہوئے ہیں یہ عین ممکن ہے کہ اگر دو ہفتے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو شاید یہ سیزفائر مزید آگے بڑھ سکتا ہے ۔ ماہر عالمی امور و تجزیہ کار ہما بقائی نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس صورتحال کو سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو 1979کے بعد پہلی بار امریکا اور ایران آمنے سامنے بیٹھے اور جہاں تقریباً21گھنٹوں تک جاری رہنے والی طویل بات چیت میں یقینا تمام اہم امور زیر بحث آئے ہونگے ۔ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت مجموعی طور پر لچکدار اور کھلے انداز میں ہوئی تاہم دونوں جانب یہ تسلیم کیا گیا کہ کچھ ریڈلائنز تاحال زیر غور نہیں آسکیں۔ دفاعی تجزیہ کار مریم فاطمہ نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل نیوکلیئر پروگرام سے متعلق معاملے پر ایران نے اپنے گزشتہ مذاکراتی عمل میں خاصی لچک کا مظاہرہ کیا تھا جیسے موجودہ پیشرفت کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا تھا اور اس کے باوجود اس نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے نیوکلیئر پروگرام کو مکمل طور پر رول بیک کرنے پر کسی قسم کی حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی اور جہاں تک صدر ٹرمپ کی بات ہے انہیں اب اپنی عزت برقرار رکھنی ہے کیونکہ انہیں اپنے داخلی عوام اور سیاسی حلقوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو کسی حدتک رول بیک کروایا گیا ہے کیونکہ اس جنگ کا دارومدار اسی پر تھا اور صدر ٹرمپ کے پاس اب اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے اپنی عزت برقرار رکھنے کیلئے یہ وہ اہم نکتہ ہے جس پر صدر ٹرمپ نے اپنی ڈومیننس اور پوزیشن برقرار رکھنے کیلئے مذاکراتی عمل میں توجہ مرکوز کی ہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی اسی نوعیت کی ایک اہم ڈیمانڈ سامنے آئی ہے کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام کو رول بیک کرایا جائے ۔
اہم خبریں سے مزید