• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد امن مذاکرات کا اختتام پاکستان کے لیے اب آگے کیا؟

کراچی (نیوز ڈیسک) اسلام آباد امن مذاکرات کا اختتام: پاکستان کے لیے اب آگے کیا؟ امریکہ اور ایران کے وفود کی واپسی اور جنگ بندی کے غیر یقینی مستقبل نے پاکستان کو ایک پیچیدہ سفارتی اور معاشی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کے حوالے سے گزشتہ کئی ہفتوں سے جوش و خروش بڑھ رہا تھا۔ اس عمل کے لیے پاکستانی فوج کے سربراہ نے صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ براہِ راست رابطہ برقرار رکھا، جبکہ دوسری جانب وزیراعظم یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطوں کے ذریعے سفارتی محاذ پر سرگرم رہے۔ اتوار کے روز یہ تمام جوش و خروش اس وقت چند منٹوں میں دم توڑ گیا جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ 21 گھنٹے طویل ملاقاتوں کے بعد، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے باہر نکل کر ایک دو ٹوک اور سخت فیصلہ سنایا۔ وینس نے صحافیوں کو بتایا ’’ہم نے اپنی ریڈ لائنز (حدود) بالکل واضح کر دی ہیں، اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ کن چیزوں پر ہم ان کے ساتھ تعاون یا لچک دکھانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’انہوں نے ہماری شرائط قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ جنگ بندی کے غیر یقینی ہونے کے بعد اب پاکستان کو اپنے ایک فوری چیلنج کا سامنا ہے: کیا وہ دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس لا سکے گا؟
اہم خبریں سے مزید