اسلام آباد (محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار) ایران، امریکا کے اسلام آباد مذاکرات کے نتائج سفارت کارانہ فطرت کے عین مطابق برآمد ہوئے ہیں جنہیں تاریخ میں دونوں متحارب قوتوں کے درمیان تصادم اور خونریزی ختم کرنے کی بنیاد کے طور پر یاد رکھا جائے گا اس حیثیت سے انکار کے بارے میں اسرائیل، بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے بعض گمراہ سیاسی عناصر یکساں موقف رکھتے ہیں اور اسے پھیلانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ ایران نے اتوار کی شب قرار دیا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات ’’وقوعہ نہیں سفارتی عمل‘‘ ہے جو جاری رہے گا۔ پاکستان میں متعینہ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا بیان ان عناصر کو موقف زمین بوس کرنے کے لئے ایران کا اولین ردعمل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات نے اس سفارتی عمل کی اساس رکھ دی ہے جو تمام فریقین کے لئے دیرپا ضابطہ عمل کو اعتماد اور مستحکم ارادے کی فراہمی کرسکتا ہے۔ ایرانی سفیر نے دن بھر اپنے ملک سے آئے مذاکراتی وفد کے ساتھ صلاح مشوروں کے بعد بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے برادر اور دوست ملک پاکستان کے عوام بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ان کے خیر سگالی اور خدمات کو بروئے کار لانے پر پرجوش شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور شخصیات بشمول حکومت، فوج، پولیس اور سیکورٹی فورسز کی اس انتھک محنت کو ہدیہ تشکر پیش کیا ہے جو انہوں نے مذاکرات کا بندوبست کرنے اور انہیں باوقار اور شایان شان ماحول میں منعقد کرنے کی خاطر کیا جس میں دو نوں طرف سے آئے مہمانوں کے لئے پرسکون بہترین نظم اور محفوظ فضا برقراررکھی گئی او انہیں سہولتوں کے یکساں مواقع فراہم کئے گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی سفیر کے علاوہ ایرانی وفد کے سربراہ اسپیکر پارلیمنٹ سید باقر قالیباف کا رات گئے جاری ہونے والا بیان بھی اسلام آباد مذاکرات کی شاندار پیش رفت ثابت کرتا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی سفارتی پہل قدمی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی اہمیت اور اس کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کم کرکے پیش نہیں کیا جاسکتا ایران پر حملہ آور ہوئے جارح ممالک جو محض ڈیڑھ ہفتہ قبل اس پر آگ اور بارود برسارہے تھے اپنی آتش و آھن کی بارش کو روک کرآج میز کے گرد بیٹھ کر طویل المدتی امن کے امکانات کا جائزہ لے رہے تھے جن میں 47؍ سال سے سرگرم دشمنی اور قبل ازیں دھائیوں کی عداوت چل رہی تھی ان مذاکرات سے محض ایک روز میں تمام تنازعات دور ہوجانے کی توقع اس عمل کے شروع ہونے سے پہلے نادرست تھی اور اب نتیجے کے بارے میں منفی تاثر دینا بھی سراسر غلط اور گمراہ کن ہوگا۔ ذرائع کا استدلال ہے کہ یہ پاکستان کی مساعی تھی کہ محض ایک ہفتہ قبل ہی بموں کی بارش اور انسانی جانوں کا اتلاف رکا ہے جو دہشت گرد سوچ رکھنےوالے ممالک اور عناصر کی کامل ناکامی تھی اور جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی اسے تڑوانے کے درپے ہوگئے اور مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگادی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس عمل کے پہلے دور میں ہی زبردست سفارتی تجربہ حاصل کیا ہے اور اپنی مہارت ظاہر کی ہے اس سلسلے میں عالمی میڈیا کے اژدھام کو جس خوش اسلوبی سے سہولتیں فراہم کی گئیں اس پر وہ ہمیشہ رطب اللسان رہیں گے۔ دنیا بھر سے میڈیا کے صف اول کے تجزیہ کار اور فریستادے اسلام آباد آئے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے مواقع پر موجود ر ہے ہیں جن میں ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں لیکن پاکستان نے ان کے لئے جس نوعیت کی سہولتیں اور آسائشات کو یقینی بنایا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ جناح کنونشن سینٹر کے انتظامات کو مثالی قرار دے رہے تھے جہاں نہ صرف انہیں پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے ہر نوع کی آسانیاں میسر تھیں بلکہ متعلقہ وزارت (اطلاعات و نشریات) کے اعلی حکام اور اہلکار بھی ہمہ وقت پیدا ہونے والی کسی بھی مشکل کا حل کرنے کے لئے دستیاب تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بندوبست اور حسن انتظام نے پاکستان کو مثالی میزبان ملک کا درجہ دلادیا ہے جس کی تعریف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف بھی کرنے سے نہ رہ سکے۔