• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبی راستوں پر فیس لینے کی تاریخ، سمندری گزرگاہوں سے آمدن کا قدیم نظام

کراچی (نیوز ڈیسک) آبی راستوں پر فیس لینے کی تاریخ، سمندری گزرگاہوں سے آمدن کا قدیم نظام، اٹھارویں صدی میں جہاز گزرنے کیلئے فیس ادا کرتے تھے، درۂ دَردانِیَل جیسے اہم آبی راستے استعمال ہوتے تھے، عثمانی سلطنت ان گزرگاہوں سے آمدن کیلئے باقاعدہ محصول وصول کرتی تھی، اسے “اِذنِ سفینی” کہا جاتا تھا۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اٹھارویں صدی کے آخر میں ایک جہاز جس میں تقریباً 50 ٹن گندم لدی ہوئی تھی، بحیرۂ باسفورس اور درۂ دَردانِیَل (Dardanelles) کے راستے سے گزرا اور موجودہ یوکرین کی سمت جا رہا تھا۔ اس تاجر اپاستاس پاراسارا کو معلوم تھا کہ اس سمندری گزرگاہ کو عبور کے لیے اسے عثمانی سلطنت کو ایک فیس ادا کرنا ہوگی تاکہ اسے محفوظ راستہ مل سکے۔ اس محصول کو “اِذنِ سفینی” کہا جاتا تھا، جو تقریباً 300 اکچے کے برابر تھا۔ یہ رقم اس دور میں سمندری راستوں سے گزرنے والے جہازوں پر عائد کی جانے والی ایک باقاعدہ فیس تھی، جو ریاستی کنٹرول اور آمدنی دونوں کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔
اہم خبریں سے مزید