• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لبنان، اسرائیلی بمباری میں والد کی میت میں شریک 2 سالہ بچی بھی شہید

کراچی (نیوز ڈیسک) لبنان پر اسرائیلی بمباری میں شہید والد کی میت میں شریک دو سالہ شیر بچی تالین بھی شہید ہوگئی ، دو سالہ تالین لبنان میں جنگ کے دوران پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی شہید ہوگئی، لبنان میں حالیہ جنگ کا آغاز 2 مارچ کو ہوا تھاجبکہ دو سال قبل بھی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان غزہ جنگ کے بعد سے لڑائی جاری تھی۔دو سالہ تالین کے والد اور دیگر رشتہ دار اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے، تدفین میں شریک افرادبھی نشانہ بن گئے۔خون آلود پٹیوں میں لپٹی سات سالہ ایلین سعید، گزشتہ ہفتے جنوبی لبنان میں اپنے گھر پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں بمشکل زندہ بچ پائیں۔ وہ وہاں اپنے والد کی تدفین کے لیے آئی تھیں کیونکہ پورے خطے میں جنگ بندی کی امیدیں پھیل رہی تھیں، لیکن ایک نئے حملے نے ان کی شیر خوار بہن دو سالہ تالین اور دیگر رشتہ داروں کو شہید کر دیا۔گاؤں صریفہ میں سعید خاندان کے گھر پر یہ حملہ بدھ کے روز ہوا، جو کہ امریکا-ایران جنگ بندی کا پہلا دن تھا جس کے بارے میں لبنان میں بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ اس کا اطلاق ان کے ملک پر بھی ہوگا۔ اس کے بجائے، اسرائیلی حملوں میں پورے لبنان میں 350 سے زائد افراد شہید ہوئے اور سعید خاندان کے پاس تدفین کے لیے چار مزید لاشیں رہ گئیں۔ایلین کے 64 سالہ دادا ناصر سعید، جو خود بھی اس حملے میں بچ گئے، نے بتایا"انہوں نے کہا تھا کہ جنگ بندی ہو گئی ہے۔ باقی تمام لوگوں کی طرح ہم بھی گاؤں گئے۔ ہم میت کے پاس دعا پڑھنے گئے اور گھر کی طرف چل پڑے، اچانک ہمیں ایسا لگا جیسے کوئی طوفان براہِ راست ہم پر آ گرا ہو۔"اتوار کے روز، وہ جنوبی بندرگاہی شہر صور (Tyre) میں دیگر رشتہ داروں کے ساتھ سبز کپڑے میں لپٹی لاشیں لینے پہنچے۔ ان میں سے ایک تابوت، جو باقیوں سے سائز میں بہت چھوٹا تھا، ان کی پوتی تالین (ایلین کی بہن) کا تھا۔تالین کی عمر ابھی دو سال بھی نہیں ہوئی تھی۔سر اور دائیں ہاتھ پر پٹیاں باندھے اور چہرے پر خراشوں کے ساتھ، ناصر سعید خاموشی سے ماتم کر رہے تھے جبکہ ان کے گرد موجود خواتین آسمان کی طرف منہ کر کے کرب سے چیخ رہی تھیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کافی تفصیلات موجود نہیں ہیں، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ وہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خلاف اپنے حملوں میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔تالین کے دادا ناصر سعید نے اس اسپتال میںبرطانوی نیوز ایجنسی کو بتایا جہاں ایلین کی والدہ غنویٰ کا اب بھی علاج جاری ہے، "یہ انسانیت نہیں ہے۔ یہ ایک جنگی جرم ہے۔"انہوں نے کہا، "انسانی حقوق کہاں ہیں؟ اگر اسرائیل میں کوئی بچہ - ایک بچہ! - زخمی ہوتا ہے، تو پوری دنیا تڑپ اٹھتی ہے۔ کیا ہم لوگ نہیں ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں ہیں؟ ہم بھی انہی کی طرح ہیں!"تالین 2024 میں پیدا ہوئی تھی، جب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان شدید جھڑپوں کا ایک دور چل رہا تھا۔ غنویٰ کے والد محمد نزال نے کہا، "وہ جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی شہید ہوگئی۔"دریں اثناء لبنان پر شدید بمباری جاری ہے، ہفتے کے روز تقریباً 100 افراد شہید ہوئے۔صور کے جبل عامل اسپتال میں ہنگامی کارروائیوں کے سربراہ ڈاکٹر عباس عطیہ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کی بمباری حالیہ برسوں کی شدید ترین بمباری میں سے ایک تھی اور ان کے اسپتال پہنچنے والے بہت سے مریض بچے تھے۔عطیہ نے برطانوی نیوز ایجنسی کو بتایا، "ہمیں اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ زخمیوں کی وہ تعداد ہے جو ایک ہی وقت میں، یعنی 30 منٹ یا ایک گھنٹے کے اندر اندر پہنچ جاتی ہے۔"
اہم خبریں سے مزید