کراچی (ٹی وی رپورٹ) دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا ہے کہ پہلی ہی نشست میں نتیجہ نکلنا بچگانہ سوچ ہے۔ ایران نے اپنے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے جتنی رسائی دی ہے شاید کسی ملک نے دی ہو۔ سینئر تجزیہ کار اعزاز سید نے کہا کہ دونوں جانب کی باڈی لینگویج بہت اچھی رہی تاہم ایرانی وفد اپنے ایجنڈے کو لے کر سخت نظر آیا۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا کہ یہ پاکستان کی ہی کوششیں ہیں کہ جس کی وجہ سے ایران اور امریکا سیاسی سطح پر بات چیت پر آمادہ ہوئے ہیں اور اب یہ کہا جائے کہ پہلی ہی نشست میں اس کا کوئی مستقل او رپائیدار نتیجہ نکل آئے گا تو میں اسے بچکانہ سوچ سے تعبیر کروں گا۔ دفاعی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ وہ انگیجمنٹ جو ایک صدی میں نہ ہوسکی تھی پاکستان کی کوششوں سے ہوگئی اورمیں اسے خوش آئند اور مثبت ایونٹ سے تعبیر کرتا ہوں میرے خیال میں جہاں اس سے بہت سارے خدشات بھی ہیں وہیں بہت ساری امیدیں بھی وابستہ ہیں اس لئے اس کا ایک دم سے حل نکلنا تو ممکن نہیں ہے تاہم یہ پراسیس ڈیل ریل نہیں ہوا ہے مثبت بات یہ ہے دونوں جانب سے جو میڈیا سے گفت و شنید کی گئی ہے اس میں جو نکات سامنے لائے گئے ہیں وہ واقعی بہت غور طلب ہیں ایسا نہیں ہے کہ یہ پراسیس فیل ہوگیا ہے ٹرمپ نے جو آپشن رکھے ہیں اس میں ایران کے لئے یہ موقع موجود ہے کہ وہ اس کو یا تو قبول کرلے یا پھر مسترد کردے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں کچھ آپشن مانگ لی جائیں کہا یہ جارہا ہے کہ بہت سارے پوائنٹس پر اتفاق ہوگیا تاہم کچھ پوائنٹس پھر بھی ایسے باقی ہیں جن پر اتفاق نہ ہوسکا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ دونوں سائیڈز پر کچھ ایسی چیزیں ہوئی ہیں جن کو تسلیم کیا گیا ہے میرے خیال میں تو دونوں طرف سے جو بات چیت ہوئی ہے اس سے ابھی امید ہے کہ دوبارہ سے ارینجمنٹ ہوگی ۔ دفاعی تجزیہ کار کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں کہ ان کی بات چیت متبادل ایرانی لیڈر شپ سے جاری ہے تاہم اس میں اعتماد کا فقدان ہے تاہم پاکستان کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اس کو دونوں جانب کا اعتماد حاصل تھا جس کی وجہ سے وہ دنیا کے سامنے ایک ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایران کی طرف سے یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ فیصلے سپریم لیڈر کو کرنے ہیں یا پھر آئی آر ڈی سی کی جو سینئر کمانڈ ہے اسے فیصلے کرنے ہیں اس کی کلیریٹی ابھی کسی کے پاس نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ جو ٹیم یہاں موجود ہے وہ ان سے کیسے کمیونیکیٹ کرسکے گی لازمی سی بات ہے اگر ایران اپنے سپریم لیڈر سے مشور کرتا ہے تو اس کی لوکیشن واضح ہوجائے گی یہی وجہ ہے کہ ایرانی وفد کے لئے عام ذرائع مواصلات استعمال کرنا ممکن نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ جو بھی فیصلے کرنے تھے ایرانی وفد نے جو اسلام آباد میں موجود تھا اسی نے کرنے تھے ۔