• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاک- امریکہ اور ایران مذاکرات: فیلڈ مارشل عاصم منیر سفارتی محاذ پر توجہ کا مرکز

اسلام آباد (اے ایف پی)پاک-امریکہ اور ایران مذاکرات: فیلڈ مارشل عاصم منیر سفارتی محاذ پر توجہ کا مرکز، ماہرین پاکستان کے خارجہ تعلقات کے مرکز میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بڑھتے ہوئے کردار کو دیکھ رہے ہیں۔ جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ہفتے کے روز ایران کے ساتھ اہم ترین مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں اپنے طیارے سے اترے، تو ان کا استقبال پاکستان کے طاقتور آرمی چیف نے کیا، جن کا سویلین لباس اردگرد موجود لوگوں کے ساتھ گھل مل گیا تھا۔ یہ تصویر اس بات کی عکاسی کرتی ہے جسے کئی ماہرین پاکستان کے خارجہ تعلقات کے مرکز میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بڑھتے ہوئے کردار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار قمر چیمہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا،’’وہ ایک فوجی بھی ہیں، ایک مدبر بھی اور ایک سفارت کار بھی۔منیر نے عالمی سطح پر پاکستان کا تاثر بدلنے کے لیے ایک نئی تحریک پیدا کی ہے۔‘‘ ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکہ کو کئی دہائیوں کے بعد اعلیٰ ترین سطح کے آمنے سامنے مذاکرات کی میز پر لانے کی پاکستانی کوششوں نے بین الاقوامی سطح پر ستائش سمیٹی ہےاور کچھ حیرت بھی۔ اسلام آباد میں، منیر تمام تر سرگرمیوں کا مرکز تھے،انہوں نے دونوں وفود کی آمد پر ان کا استقبال کیا اور وینس کے ساتھ غیر معمولی خوش اخلاقی اور دوستانہ تعلق کا مظاہرہ کیا۔ ایک سویلین عہدیدار کے مطابق، اس تاریخی سہ فریقی آمنے سامنے ہونے والی بات چیت کے دوران، منیر اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مذاکرات میں ’’ثالث‘‘ کا کردار ادا کیا۔ یہ ایک ایسے ملک کے لیے بہت طویل سفر طے کرنے کے مترادف ہے جس کے واشنگٹن کے ساتھ اتحاد میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں، اور جہاں امریکہ نے اکثر اسلام آباد کو اس وقت سخت تنقید کا نشانہ بنایا جب فوجی رہنماؤں نے سویلین حکومتوں کا تختہ الٹا — حالانکہ وہ انہی کے ساتھ مل کر کام بھی کرتا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اکثر منیر کو اپنے ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ کے طور پر یاد کرتے ہیں، اور یہ ہم آہنگی گزشتہ سال پاکستان اور اس کے حریف بھارت کے درمیان ایک مختصر مگر شدید مسلح تصادم کو ختم کرنے کی امریکی کوششوں کے دوران پیدا ہونے والے قریبی تعلقات کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے اس تنازع کے بعد ٹرمپ کی بھرپور ستائش کی، یہاں تک کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں’’نوبل امن انعام‘‘ کے لیے نامزد کر دیا۔ دوسری جانب، بھارت نے اس بحران کے حل میں امریکی مداخلت یا کردار کو اہمیت نہیں دی ہے۔ اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے طویل مذاکرات کا اختتام وینس کے اس اعلان کے ساتھ ہوا کہ وہ کسی حتمی معاہدے کے بغیر روانہ ہو رہے ہیں، تاہم پاکستان نے کہا کہ وہ مکالمے کے لیے سہولت کاری جاری رکھے گا۔ مذاکرات شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ایک ٹیلی ویژن خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا، ’’فیلڈ مارشل منیر نے انتھک محنت کے ذریعے جنگ کے شعلوں کو بجھانے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ایک کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔‘‘
اہم خبریں سے مزید