کراچی (نیوز ڈیسک) مذاکرات ناکامی کی وجہ، واشنگٹن فوری اور واضح نتائج چاہتا تھا. تہران کا تدریجی اور باوقار مذاکراتی مطالبہ، دونوں فریقوں پر داخلی سیاسی دباؤ بہت زیادہ تھا. ایرانی تجزیہ کار علی وایز کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی مذاکراتی کوششیں اس لیے ناکام ہوئیں کہ واشنگٹن فوری طور پر ایسا نتیجہ چاہتا تھا جو اسے سیاسی طور پر کامیابی اور مخالف فریق کی واضح پسپائی کے طور پر پیش کیا جا سکے، جبکہ تہران ایک سست رفتار اور باوقار طریقہ کار کے تحت مذاکرات چاہتا تھا جس میں اس کی خودمختاری اور سیاسی وقار برقرار رہے، اور دونوں جانب داخلی سیاسی دباؤ اس قدر زیادہ تھا کہ کسی بھیدرمیانی سمجھوتے کو قبول کرنے کی قیمت تصادم جاری رکھنے سے بھی زیادہ محسوس ہو رہی تھی، جس کے باعث بات چیت کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکی۔