بیجنگ (اے ایف پی)متنوع ذرائع اور وسیع ذخائر نے چین کو عالمی توانائی کے خلل سے بچا لیا، تجزیہ کار، چین کی جانب سے گزشتہ سال نصف سے زیادہ خام تیل مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کیا گیا، کیپلر کی رپورٹ۔ تفصیلات کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور ذخائر جمع کرنے کی چین کی طویل مدتی حکمت عملی اسے ایران کی جنگ سے پیدا ہونے والے خلل سے نمٹنے میں مدد دے رہی ہے، تاہم بعض شعبوں کو اب بھی بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اینالیٹکس فرم ’’کیپلر‘‘ کے مطابق چین بڑے پیمانے پر خام تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور گزشتہ سال اس کی سمندری راستے سے منگوائی گئی خام تیل کی کل مقدار کا نصف سے زائد حصہ مشرق وسطیٰ سے آیا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ نے گزشتہ چھ ہفتوں سے خلیجی خطے سے ہونے والی تقریباً تمام تر ترسیل (شپمنٹس) کو روک رکھا ہے، جبکہ اس ہفتے طے پانے والے جنگ بندی کے ایک کمزور سے معاہدے کے بارے میں یہ امکان انتہائی کم ہے کہ اس سے صورتحال فوری طور پر بحال ہو جائے گی۔ تاہم، تجزیہ کاروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ توانائی کے تحفظ کے حوالے سے بیجنگ کی دیرینہ ترجیحات نے اسے اس قسم کے جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے بہترین طریقے سے تیار رکھا ہے۔ کیپلر کی سینئر آئل اینالسٹ، مویو شو کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ’’جیو پولیٹیکل صورتحال کے بارے میں عمومی تشویش‘‘ نے چینی رہنماؤں کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ اسٹریٹجک ذخائر کی وافر مقدار میں اسٹوریج کی تعمیر اور ذخیرہ اندوزی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کوششوں کا مطلب یہ ہے کہ چین اب اپنے کئی ایشیائی پڑوسیوں، جیسے کہ جاپان اور فلپائن کے مقابلے میں کہیں بہتر پوزیشن میں ہے۔ لیکن شو کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے اب تک اپنے وسیع تر اسٹریٹجک ذخائر کے استعمال میں کسی قسم کی ’’جلد بازی‘‘ کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔