• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ای او بی آئی کا سرمایہ کاری پورٹ فولیو 691.91 ارب روپے تک پہنچ گیا

اسلام آباد (اے پی پی)ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی ) کا سرمایہ کاری پورٹ فولیو 28 فروری 2026 تک بڑھ کر 691.91 ارب روپے تک پہنچ گیا، جہاں فکسڈ انکم آلات بدستور فنڈ کے اثاثہ جاتی ڈھانچے اور آمدنی میں غالب رہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ای او بی آئی کی زیادہ تر سرمایہ کاری فکسڈ انکم اثاثوں میں ہے جو مجموعی پورٹ فولیو کا 85.58 فیصد یا 592.12 ارب روپے بنتا ہے۔ اس زمرے میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز(پی آئی بیز)540.35 ارب روپے کے ساتھ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ ان پر حاصل شدہ منافع 49.61 ارب روپے ہے اور کارپوریٹ فکسڈ انکم 2.16 ارب روپے پر مشتمل ہے۔یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ ای او بی آئی نسبتا محفوظ اور مستحکم آمدنی کے ذرائع کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ یہ پنشن واجبات کو پورا کرنے کے لیے فنڈز کا انتظام کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایکویٹی میں سرمایہ کاری محدود ہے۔دستاویزات کے مطابق فروخت کے لیے دستیاب ایکویٹی 26.38 ارب روپے جبکہ ٹریڈنگ کے لیے رکھی گئی ایکویٹی 14.86 ارب روپے ہے، جس سے مجموعی ایکویٹی سرمایہ کاری 41.24 ارب روپے یا کل پورٹ فولیو کا 5.96 فیصد بنتی ہے۔ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری کا تیسرا بڑا حصہ ہے۔ دستاویزات کے مطابق جائیدادوں کی مالیت 42.36 ارب روپے جبکہ ریئل اسٹیٹ منصوبے 16.20 ارب روپے کے ہیں، یوں مجموعی ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری 58.55 ارب روپے یا 8.46 فیصد بنتی ہے۔ دستاویزات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ان اثاثوں سے آمدنی کیسے حاصل ہو رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے ای او بی آئی کی مجموعی سرمایہ کاری آمدنی کا ہدف 78.89 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ جولائی 2025 سے فروری 2026 تک حقیقی آمدنی 56.453 ارب روپے رہی، جبکہ اسی مدت کے لیے بجٹ تخمینہ 52,593 ملین روپے تھا۔زیادہ تر آمدنی فکسڈ انکم سرمایہ کاری سے حاصل ہوئی۔
اہم خبریں سے مزید