• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران افزودہ یورینیم کی منتقلی پر بھی راضی تھا، ماہرین

کراچی (ٹی وی رپورٹ) ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کی منتقلی پر بھی راضی تھا، پاکستان نے اب تک جو کردار ادا کیااسے ہی کامیاب سفارت کاری کہتے ہیں، مذاکرات کے اختتام پرامریکی ایرانی وفود کی باڈی لینگویج میں مایوسی نظر نہیں آئی۔ ان خیالات کا اظہار بریگیڈئیر ریٹائرڈ حارث نواز، بریگیڈئیر ریٹائربابر علاؤ الدین، منصور جعفر، مریم فاطمہ اور ملیحہ لودھی نے جیو نیوز کی خصوصی نشریات ’’اسلام آباد مذاکرات ، امن کی امید‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ تفصیلات کے مطابق جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں بریگیڈئیر ریٹائرڈ حارث نواز،دفاعی تجزیہ کارنے کہا کہ 40 سال بعد امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دینا پاکستان کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے ، امریکا اور ایران دونوں سنجیدگی سے مسئلے کا حل چاہتے ہیں اور مذاکرات جاری رکھنے کو بھی تیار ہیں،شہید آیت اللہ خامنہ ای نے خود کہا کہ ہم نیوکلئیر بم نہیں بنانا چاہتے ،جنگ سے قبل مذاکرات میں ایران افزودہ یورینیم کی منتقلی پر بھی راضی تھا لیکن اگر وہ چاہتے ہیں کہ اسے امریکا میں رکھا جائے اس پر ایران نہیں مانے گا ۔دوسری جانب آبنائے ہرمز کا ہی معاملہ دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں دونوں فریقین کن نکات پر اتفاق کرتے ہیں۔ بریگیڈئیر ریٹائربابر علاؤ الدین،دفاعی تجزیہ کار نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات آسان نہیں پیچیدہ نوعیت کے ہیں ، دونوں فریقین کی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جا رہا تھا کہ یہ ایک ہی بار میں کامیاب ہوجائے گی ، فریقین ساتھ بیٹھے ہیں موقف کو سنا ہے مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا بات چیت کے بعد ہی اندازہ کیا جاتا ہے کہ کہا ں کہاں کام کیا جا سکتا ہے ،جو کردار پاکستان نے اب تک ادا کیااسے ہی کامیاب سفارتکاتی کہتے ہیں۔دونوں وفود اپنے ممالک جا کر قیادت سے بات چیت میں ایک نیا موقف سامنے آئے گا جس پر دوبارہ مذاکرات کی طرف واپس آیا جاسکتا ہے ۔ بار بار ایران سے یورینیم افزودگی نا کرنے کی یقین دہانی کروانا اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکا جنگ کے اہداف حاصل نہیں کر سکا،بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایران پر امن مقاصد کے لئے جوہری ہتھیار رکھنے کا حق حاصل ہے ، لیکن اسرائیل کو یہ خدشہ ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں ایران اسرائیل پر جوہری ہتھیار کا استعمال کر سکتا ہے اور ہم سب جانتے امریکا ایران سے جنگ اسرائیل کے مفادات پر جاری رکھے ہوئے تھا ۔ منصور جعفر،تجزیہ کارنے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کا اختتام ہوا ہے مذاکرات کا نہیں، دونوں فریقین کے درمیان نکات کا تبادلہ کیا گیا ہے، اتنی سخت شرائط والے دو فریقین کو ایک میز پر بٹھانا فورا کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا ڈپلومیسی کا دروازہ کھلا رکھنا ہوتا ہے، 50سال کے عدم اعتماد ایک نشست میں ختم نہیں ہوسکتا۔ بنیادی طور پر یورینیم افزودگی کی صورتحال ہے ایران کا موقف واضح ہے کہ اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو وہ کوریا اور پاکستان کی طرح ہم نے ناقابل تسخیر ہو تے ، امریک اور اسرائیل کی ایران پر چڑھائی کی وجہ جوہری ہتھیار کا نہ ہونا ہے دوسری جانب امریکا کو اس بات کا خود یقین نہیں کہ وہ اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر چکے ہیں یا نہیں جس پر وہ بوجھ ایران کے کندھوں پر ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے قول سے ثابت کرے کہ ہماری یورینیم افزوگی ختم ہو گئی ، یقینا ایران ایسی کوئی یقین دہانی امریکا کو نہیں کرا سکتا ۔ مریم فاطمہ، ماہر دفاعی امورنے کہا کہ پاکستان نے اپنی بہترین سفارتکاری کو استعمال کرتے ہوئے ایران امریکا کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا،ہائی لیول مذکرات پر قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہئے ، اسی لئے حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا ۔ جہاں تک وفود کی بات کی جائے تو باڈی لیگویج میں مایوسی نظر نہیں آئی ، ایران اس وقت مظلوم فریق ہے ان کو نقصان پہنچایا گیا ہے تویقینا ایران کے تحفظات زیادہ ہے ،ثالث پاکستان کی باڈی لیگویج میں بھی کو ٹینشن نہیں تھی۔مذاکرات کے مختلف ادوار ہوتے ہیں، امریکی نائب صدر کے بیان سے بھی واضح تھا کہ مذاکرات یہاں تھم گئے ہیں ختم نہیں ہوئے ۔جنگ کے اس مقام پرجنگ بندی اور پھر مذاکرات کا شروع ہونا اصل کامیابی ہے ۔ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دن صرف فریقین کے درمیان اطمینان کا دن ثابت نہیں ہوا بلکہ سعودی عرب اور خلیج ممالک نے بھی کسی قدر سکون کا سانس لیا ، اسرائیلی بھی اپنے بنکرز سے باہر نکل سکے ہیں۔ ملیحہ لودھی، سابق سفیر نے کہا کہ چند گھنٹوں میں کسی ڈیل کی امید رکھنا درست نہیں تھا، دونوں فریقین نے سفارتی آپشن کھلا رکھا ہوا ہے ،بیک چینل ڈپلومیسی چلتی رہے گی اور پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔امریکا اور ایران دونوں نے اپنی پوزیشنز اچھے سے ایک دوسرے سے سامنے رکھی ہیں، اب دونوں جانب ان کی عوام بھی ہے قیادت بھی ہے ان کا اعتماد بھی تو حاصل کرنا ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ ہم آئندہ دنوں میں سفارتی کوششیں کیسے بحال ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کی ثالثی میں کسی قسم کا شک باقی نہیں رہا ، پہلے نازک موڑ پر جنگ بندی اور مذاکرات کی میز تک بھی کامیابی سے دونوں فریقین کو آمنے سامنے بیٹھنے پر بھی مجبور کردیا۔امریکی صدر ٹرمپ کا رد عمل کیا ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا ، جہاں تک جے ڈی وینس کا تعلق ہے وہ تو اس جنگ کے حامی ہی نہیں تھے ، ہمیں صبر سے کام لینا ہوگا کہ واشنگٹن اور تہران سے کیا جواب آتا ہے ۔
اہم خبریں سے مزید