کراچی (رفیق مانگٹ) دنیا کے دو بااثر ترین مسیحی رہنما آمنے سامنے: مسلم ملک کے خلاف جنگ پر مختلف مؤقف، ورلڈ سپر پاور کے صدر اور ویٹیکن کے روحانی رہنما کا ٹکراؤ، ایران جنگ نے ٹرمپ اور پوپ کو آمنے سامنے لا کھڑا کردیا۔
رائٹرز کے مطابق لیو نے کہا اب جنگ نہیں مذاکرات کا وقت ہے۔ یسوع امن کے بادشاہ، جنگ کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا،ʼہمیں خوف نہیںʼ پوپ لیو کا ٹرمپ دباؤ مسترد کرتے ہوئے انجیل کے پیغام پر قائم رہنے کا اعلان۔
ٹرمپ نے کہا ایسا پوپ پسند نہیں جو جنگی پالیسیوں پر اختلاف کرے، ان کے بیانات غلط پیغام دیتے ہیں، میں وائٹ ہاؤس میں نہ ہوتا تو لیو ویٹیکن میں نہ ہوتے۔
پوپ کے مطابق بس کریں! اب امن کا وقت ہے! مذاکرات اور ثالثی کی میز پر بیٹھیں، نہ کہ اس میز پر جہاں دوبارہ اسلحہ سازی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ ٹرمپ اور ہیگستھ نے جنگی پالیسیوں کے حق میں مذہبی حوالے دئیے، جنگی اقدامات خدائی حمایت یافتہ قرار دیتے ہوئے مذہبی دلائل پیش کیے، پوپ لیو نے انہیں بارہا مسترد کیا۔
ڈی سی آرچ بشپ کا کہنا ہے ایران میں جنگ کا کوئی اخلاقی جواز نہیں، واشنگٹن جنگ کو اخلاقی طور پر ناجائز قرار دے کر فوری جنگ بندی کا مطالبہ، عالمی چرچ اپیلیں۔ ایران جنگ نے عالمی سطح پر ایک غیر معمولی مذہبی و سیاسی تصادم کو جنم دیا ہے جس میں دنیا کی سپر پاور کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ویٹیکن کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہار دہم آمنے سامنے آ گئے ہیں، جہاں طاقت اور اخلاقیات کے بیانیے ٹکرا گئے ہیں۔
ایک طرف پوپ لیو انجیل کے پیغام کی روشنی میں جنگ کے بجائے امن، مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیتے ہوئے ’ہمیں خوف نہیں‘ کے مؤقف پر قائم ہیں، جبکہ دوسری طرف صدر ٹرمپ نے ان کے بیانات کو خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
یوں یہ تنازع نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ عالمی مذہبی حلقوں میں بھی ایک بڑی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سی این این، بی بی سی, رایٹرز،ویٹیکن اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پوپ لیو چہار دہم نے ایران جنگ اور اس پر امریکی صدر ٹرمپ کی تنقید کے بعد پیدا ہونے والے شدید سیاسی ردعمل پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی دباؤ یا خوف کے بغیر اپنے مذہبی اور اخلاقی مؤقف پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ انجیل کے پیغام کو کھل کر بیان کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ان کا مذہبی فریضہ ہے اور چرچ کی بنیادی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ وہ امن، انصاف اور انسانی وقار کے حق میں آواز بلند کرے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پوپ لیو نے افریقی براعظم کے 10 روزہ دورے کے آغاز پر طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چرچ کا کام سیاست یا خارجہ پالیسی کی طرح طاقت کے توازن کو دیکھنا نہیں بلکہ اخلاقی اصولوں اور انجیل کی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ وہ خود کو ایک امن قائم کرنے والے کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان کا مؤقف کسی ریاستی مفاد کے تابع نہیں ہو سکتا۔ پوپ کے بیان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ “ہم سیاستدان نہیں ہیں، ہم خارجہ پالیسی کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جس طرح وہ دیکھتے ہیں، لیکن میں انجیل کے پیغام پر یقین رکھتا ہوں، بطور امن قائم کرنے والے کے”۔
یہ بیان اس تناظر میں سامنے آیا کہ عالمی سطح پر ایران جنگ اور امریکی پالیسیوں پر مذہبی اور سیاسی حلقوں میں شدید اختلافات پیدا ہو چکے تھے۔ اسی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کے مؤقف پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اتوار کی شام انہیں ہدف تنقید بنایا اور ان کے بیانات کو امریکی خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب مذہبی قیادت نے جنگ کے جواز کو اخلاقی طور پر چیلنج کرنا شروع کیا۔ سی این این کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایسے پوپ کو پسند نہیں کرتے جو ایٹمی ہتھیاروں یا جنگی پالیسیوں پر ان کے مؤقف سے اختلاف کرے اور انہوں نے پوپ لیو کو خارجہ امور کی سمجھ سے عاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی قومی سلامتی کے حساس معاملات کو درست طور پر نہیں سمجھتے۔
رپورٹ میں ٹرمپ کے حوالے سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پوپ لیو کے مداح نہیں ہیں اور ان کے مطابق پوپ کے بیانات عالمی سطح پر غلط پیغام دیتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ ایران تنازع انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
پوپ لیو، جو پہلے امریکی نژاد پوپ ہیں، حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں پر زیادہ کھل کر تنقید کر رہے ہیں اور انہوں نے عالمی برادری سے بارہا اپیل کی ہے کہ تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے انہوں نے امریکی بیانات اور ایرانی عوام کے خلاف دھمکیوں کو سخت الفاظ میں “ناقابل قبول” قرار دیا، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ ویٹیکن اب اس تنازع میں زیادہ واضح اخلاقی مؤقف اپنا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب ٹرمپ نے یہ بیان دیا کہ “ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہوسکتی ہے”۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس پورے تنازع کے دوران صدر ٹرمپ اور ان کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اپنے بیانات میں مذہبی حوالوں کا استعمال کیا اور بعض مواقع پر جنگی اقدامات کو اخلاقی یا خدائی جواز دینے کی کوشش کی، جس پر مذہبی حلقوں میں اختلاف پیدا ہوا۔
ویٹیکن ذرائع کے مطابق پوپ لیو نے پام سنڈے کے موقع پر کہا کہ یسوع امن کے بادشاہ ہیں اور انہیں جنگ کے جواز کے طور پر استعمال کرنا غلط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذہبی تعلیمات کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ ایمان کی اصل روح کے بھی خلاف ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر بھی پوپ کے خلاف سخت پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے پوپ کو کمزور اور غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیالات امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ ہیں، خصوصاً ایران اور وینزویلا جیسے معاملات میں۔