پشاور(نیوزرپورٹر) پشاورہائیکورٹ کے جسٹس اعجازانور اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دورکنی بنچ نے وفاقی سلیکشن بورڈ کی جانب سے گریڈ20کے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے آفیسر شاہد زمان کوسپرسیڈ کرنے کیخلاف دائر رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے وفاقی سلیکشن بورڈ کو درخواست گزار کو گریڈ21میں ترقی دینے کا کیس زیرغور لانے کاحکم دیدیا۔ دوران سماعت درخواست گزارشاہد زمان کے وکیل علی گوہردرانی جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل یوسف اکبر خلیل عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کے وکیل نے بتایاکہ اس کا موکل ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ گریڈ 20 کا آفیسر ہے جو اپنی ایمانداری اور صلاحیتوں کی بدولت پورے گروپ میں جانے جاتے ہیں ، وفاقی حکومت نے گریڈ20 کے افسران کو گریڈ21میں ترقی دینے کیلئے سنٹرل سلیکشن بورڈ کا انعقاد کیا جو 11سے 24 مارچ 2024 تک جاری رہا جس میں اس کا موکل بھی شامل تھا تاہم اجلاس کے پانچ ماہ بعد 7اگست 2024کو اس کو ایک آفس میمورینڈم ارسال کیا گیا جس میں کہاگیاکہ انہیں اس ترقی کیلئے سپرسیڈ کردیا گیا ہے ۔ اس کیخلاف انہوں نے پشاورہائیکورٹ میں رٹ دائر کی۔ علی گوہردرانی ایڈوکیٹ نے بتایاکہ سنٹرل سلیکشن بورڈ نے وہ وجوہات نہیں بتائی جس پر انہیں سپرسیڈ کیاگیا ۔ دوران سماعت جسٹس اعجازانور نے کہاکہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف ایک افسر انتہائی ایماندار اور ذمہ دار اور بڑے مالیاتی پراجیکٹس کیلئے تجویز کرتے ہیں اور قراردیتے ہیں کہ انہیں ایسی جگہ پر لگایا جائے کہ جس میں مالیاتی امورشامل ہیں کیونکہ یہ آفسر بہترین ہے جبکہ زیادہ تر اے سی آر یا تو آوٹ سٹینڈنگ ہیں یا بہت اچھے ہیں ، تو پھر کس طرح انہیں سپرسیڈ کررہے ہیں؟ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ سنٹرل سلیکشن بورڈنے جو سفارش دی ہے اس کی بنیاد پر انہیں سپرسیڈ کیا گیا عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر رٹ منظور کرلی اور سنٹرل سلیکشن بورڈ کیجانب سے انہیں گریڈ21کیلئے سپرسیڈ کرنے کا اقدام کالعدم قراردیدیا۔