پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اغوا برائے تاوان کا مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں قابلِ سماعت ہے کیونکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365-اے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تیسرے شیڈول میں شامل ہے۔ جسٹس مدثر امیر اور جسٹس اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایبٹ آباد کی مقتول ڈاکٹر وردا مشتاق قتل کیس میں نامزد چار ملزمان کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشتگردی عدالت ہزارہ ریجن کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ ملزمان نے ایف آئی آر سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 خارج کرنے اور مقدمہ عام عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔