اسلام آباد ( مہتاب حیدر) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے فنانس کو یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ 200 سے زائد سرکاری ادارے (SOEs)، ریگولیٹری ادارے اور خودمختار باڈیز تقریباً 1000 ارب روپے اپنی بینک اکاؤنٹس میں رکھے ہوئے ہیں، بجائے اس کے کہ یہ رقم فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ(ایف سی ایف) میں جمع کرائی جائے، جو کہ Public Finance Management Act 2019 کی واضح خلاف ورزی ہے۔یہ قانون سات سال قبل پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا، تاہم سینیٹ کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ وزارت خزانہ نے دانستہ طور پر اس معاملے کو نظر انداز کیا، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔اراکینِ سینیٹ نے متفقہ طور پر کہا کہ (ایس ای سی پی) نے اپنے بورڈ کی منظوری سے 1.19 ارب روپے مراعات، پنشن اور دیگر سہولیات پر خرچ کیے، جس پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اعتراض اٹھایا، لیکن وزارت خزانہ نے گزشتہ دو محکمانہ آڈٹ کمیٹی اجلاسوں میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔حکومتی سینیٹر انوشہ رحمٰن نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کی جانب سے رکھے گئے فنڈز کی مکمل تفصیلات ایوانِ بالا میں پیش کی جانی چاہئیں۔ ان کے اندازے کے مطابق تقریباً 2000 ارب روپے اس طرح بینکوں میں رکھے گئے ہیں جو حکومتی مالیاتی نظام کا حصہ نہیں بن سکے۔سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والانے کہا:“یہ ایک واضح اسکینڈل ہے کیونکہ اتنی بڑی رقم کمرشل بینکوں میں رکھی گئی ہے، اور انہی بینکوں نے حکومت کو مہنگے قرضے فراہم کیے۔”وزارت خزانہ کے ایڈیشنل سیکریٹری (بجٹ) افتخارامجد سینیٹرز کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، جبکہ سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔سینیٹر انوشہ رحمان نے سوال اٹھایا کہ آیا وزارت خزانہ نے PFM ایکٹ 2019 کی شق 36 کے تحت ایس او ایز سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا یا نہیں۔ انہیں اس کا واضح جواب نہ ملنے پر انہوں نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اسی غفلت کے باعث ہزاروں ارب روپے ایف سی ایف سے باہر رکھے گئے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف Federal Board of Revenue (ایف بی آر) چند ارب روپے حاصل کرنے کے لیے بچوں کے دودھ پر جی ایس ٹی لگاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں روپے وزارت خزانہ کے دائرہ کار سے باہر رکھے گئے ہیں۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایس ای سی پی نے 1.19 ارب روپے اپنی مراعات پر خرچ کیے جبکہ 14 ارب روپے دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیے گئے، اور وزارت خزانہ نے اس پر آنکھیں بند رکھیں۔انہوں نے PFM ایکٹ کی شق 40-C کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت تمام سرکاری اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنی اضافی رقم ایف سی ایف میں جمع کرائیں۔