• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبادی میں اضافہ یا کمی؟ گیلپ سروے میں دنیا بھر کے بدلتے رجحانات کا انکشاف

اسلام آباد (قاسم عباسی)آبادی میں اضافہ یا کمی؟ گیلپ سروے میں دنیا بھر کے بدلتے رجحانات کا انکشاف، 39فیصد لوگوں کے خیال میں ان کے ملک کی آبادی تیزی سے نہیں بڑھ رہی؛ 24 فیصد کی برعکس رائے ۔ تیزی سے پیچیدہ ہوتی ہوئی آبادیاتی صورتحال میں، گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کی تازہ تحقیق ایک گہرا اور کسی حد تک حیران کن عالمی تضاد کو اجاگر کرتی ہے: آبادی کے رجحانات کے بارے میں لوگوں کے خدشات اکثر ان کی خاندانی حجم سے متعلق ذاتی ترجیحات سے متصادم ہوتے ہیں۔ 2025 کے اختتام پر 60 سے زائد ممالک میں کیے گئے سروے کی بنیاد پر عالمی رائے عامہ کا جھکاؤ معمولی طور پر آبادی میں کمی کے حوالے سے بے چینی کی طرف ہے۔ سروے کے مطابق 39 فیصد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ملک کی آبادی کافی تیزی سے نہیں بڑھ رہی، جبکہ اس کے برعکس 24 فیصد کا خیال ہے کہ آبادی میں اضافہ حد سے زیادہ ہے۔ تاہم، اس مجموعی ڈیٹا کے پیچھے خطوں کے درمیان ایک واضح فرق پایا جاتا ہے۔ برطانیہ اور نیدرلینڈز جیسی دولت مند اقوام میں، بڑھتی ہوئی عمر کی آبادی، افرادی قوت میں کمی اور طویل مدتی معاشی استحکام سے متعلق خدشات عوامی سوچ پر حاوی ہیں۔ یہی عوامل چھوٹے خاندانوں، عام طور پر دو بچوں،کی ترجیح کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی آبادی بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہ خدشات بنیادی ڈھانچے (انفرا اسٹرکچر)، روزگار، تعلیم اور صحت عامہ کے نظام پر پڑنے والے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ جو چیز پاکستان کو اس تضاد کی ایک خاص علامت بناتی ہے، وہ ان خدشات کے ساتھ ساتھ بڑے خاندانوں کے حق میں گہری سماجی روایات کا بیک وقت موجود ہونا ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافے کے بارے میں69 پلس کے حیران کن نیٹ سینٹیمنٹ (شدید تشویش) کے باوجود، دو تہائی پاکستانی اب بھی تین یا اس سے زیادہ بچوں کو مثالی سمجھتے ہیں، جو کہ 27 فیصد کی عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ قومی چیلنجز کے ادراک، جیسے وسائل کی کمی یا شہروں میں گنجانیت،کا مطلب لازمی طور پر ذاتی خواہشات میں تبدیلی نہیں ہے، جو اب بھی ثقافتی توقعات، معاشی تحفظ کی حکمت عملیوں اور خاندان و رشتہ داری سے جڑی سماجی اقدار کے تابع ہیں۔ دوسری جانب، دو بچوں پر مشتمل خاندان کی عالمی روایت، جسے دنیا بھر میں 54 فیصد افراد پسند کرتے ہیں، ایک حد تک یکسانیت کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر متوسط اور زیادہ آمدنی والے معاشروں میں نمایاں ہے جہاں تعلیم، شہریت (اربانائزیشن) اور افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت جیسے عوامل بچوں کی پیدائش سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید