تہران، راولپنڈی، انطالیہ (اے ایف پی، ایجنسیاں) امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو دور کرنے کیلئے پاکستان کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف کی تہران آمد کے بعد امریکا کی جانب سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں جن ایران غور رہا ہے تاہم ان پر کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا، ایران جنگ میںفاتح ہے، مذاکرات میں پسپائی یا نرمی نہیں برتیں گے، قومی مفادات کا دفاع کرینگے، امریکا کو اپنے مطالبات تبدیل کرنے چاہیں، پائیدار امن تک آبنائے ہرمز کی نگرانی جاری رکھیں گے، تجارتی جہازوں کیلئے مشروط کھولنے پر تیار ہیں،آبنائے ہرمز سے فیس وصولی کا مطالبہ برقرار ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایران کی اعلی قیادت سے ملاقاتیں جس میں مسائل کے پرامن حل کی ضرورت دیا ، دریں اثناء اعلیٰ پاکستانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات کیلئے دن اور تاریخ ابھی فائنل نہیں ہوئی، اعلیٰ حکومتی ذرائع کا کہنا ہےکہ اسلام آباد میں پیرکو مذاکرات منعقد نہیں ہو رہے۔ ادھر مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے ترکی میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ چند دنوں میں معاہدہ ہو جائیگا، ادھر ترکیہ کے شہر انطالیہ میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی جس میںچاروں ملکوں نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیراور وزیر داخلہ محسن نقوی نے وفد کے ہمراہ ایران کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اپنے دورہ کے دوران فیلڈ مارشل نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران خطے میں پائیدار امن کے حصول پر توجہ مرکوز کی گئی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال، جاری سفارتی مصروفیات اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے فروغ کیلئے تعاون پر مبنی اقدامات پر زور دیا گیا۔ فیلڈ مارشل نے مستقل سفارتی مصروفیات کے ذریعے بات چیت، کشیدگی میں کمی اور تصفیہ طلب مسائل کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔دریں اثناء ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے امریکا کے ساتھ جنگ اورمذاکرات کے حوالے سے تازہ پیش رفت کے حوالے سے تازہ بیان جاری کیا ہے۔ ایران کی پاسداران انقلاب سے منسلک نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے سوشل میڈیا اکائونٹ ایکس پر جاری بیان کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے آرمی چیف کی تہران آمد کے بعد امریکا کی جانب سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنھیں ایران ابھی تک جانچ رہا ہے اور ان پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے آغاز سے ہی دشمن کی پیش قدمی کو روکنے اور اس کے حملوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عارضی جنگ بندی قبول کرنے کی اسکی ایک اہم شرط یہ تھی کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پرجنگ بندی ہو۔ ایرانی مؤقف کے مطابق اسرائیل نے ابتدا میں لبنان اور حزب اللہ پر حملے کر کے اس شرط کی خلاف ورزی کی لیکن ایران کے دباؤ کے بعد اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن تمام محاذوں پر جنگ بندی کی پابندی کرے تو ایران آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر صرف تجارتی جہازوں کیلئے کھولنے پر تیار ہے۔ یہ اجازت بھی ایران کی نگرانی، اسکے مقرر کردہ راستے اور صرف غیر فوجی جہازوں تک محدود ہوگی، جبکہ مخالف ممالک کے فوجی جہازوں کو اس سے استثنا حاصل نہیں ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے خطے میں موجود فوجی اڈوں کی زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اور یہ صورتحال ایران اور خلیج فارس کیلئے سکیورٹی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔ بیان کے مطابق دشمن کی ناکامی اور ایرانی عوام و مسلح افواج کی مزاحمت کے بعد جنگ کے دسویں دن سے امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواستیں موصول ہونا شروع ہوئیں۔ جنگ کے چالیسویں دن امریکی صدر نے ایران کی دس نکاتی تجویز کو مذاکرات کے فریم ورک کے طور پر قبول کیا، جسکے بعد ایران نے پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ بیان کے مطابق ’اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات 21 گھنٹے تک بلا وقفہ جاری رہے۔ایرانی وفد نے امریکا پر شدید عدم اعتماد کے ماحول میں ایرانی عوام کے مطالبات کو پوری سنجیدگی اور خود اعتمادی کے ساتھ پیش کیا اور ان پر زور دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات شروع ہونے سے پہلے امریکا نے ایران کی دس نکاتی تجویز کے مطابق آگے بڑھنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔