کراچی (نیوز ڈیسک)حزب اللّٰہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ جنگ بندی یکطرفہ نہیں ہوسکتی، لبنان پر حملے روکے جائیں، اسرائیلی افواج لبنان سے انخلا کریں، خلاف ورزی کا منہ توڑ جواب دیں گے،انہوں نے قیدیوں کی رہائی اور سرحدی علاقوں میں شہریوں کی واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ 10 روزہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتی جب تک دونوں فریق اس کی پاسداری نہ کریں، جس کے لیے لبنان کے خلاف فضائی، زمینی اور بحری "جارحیت" کا مستقل خاتمہ ضروری ہے۔ نعیم قاسم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اسرائیل مکمل طور پر لبنان سے نکل جائے۔انہوں نے کہا کہ اگلے مراحل قیدیوں کی رہائی اور سرحدی علاقوں میں رہائشیوں کی اپنے گھروں کو واپسی پر مرکوز ہوں گے۔ آخری مرحلے میں بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کی مہم شامل ہوگی، جس کے لیے بین الاقوامی عرب حمایت درکار ہوگی۔حزب اللّٰہ کے رہنما نعیم قاسم نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری 10 روزہ جنگ بندی اس وقت تک جاری نہیں رہ سکتی جب تک دونوں فریق اس پر عمل نہ کریں۔ نعیم قاسم نے آج کہا،جنگ بندی کا مطلب ہر طرح کے حملوں کا مکمل خاتمہ ہے، انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ان کے جنگجو لبنان میں اسرائیلی حملوں کا جواب دیں گے۔انہوں نے کہا، چونکہ ہمیں اس دشمن پر بھروسہ نہیں ہے، اس لیے مزاحمتی جنگجو میدانِ عمل میں رہیں گے، ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہوں گی، اور وہ خلاف ورزیوں کا اسی کے مطابق جواب دیں گے۔ نعیم قاسم نے مزید کہاجنگ بندی صرف مزاحمت کی جانب سے نہیں ہے، یہ دونوں طرف سے ہونی چاہیے۔ حزب اللّٰہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم لبنان میں جنگ بندی کے دو دن بعداپنے خطاب میں کہا کہ مزاحمتی جنگجو میدان میں رہیں گے اور دشمن کی خلاف ورزیوں کا جواب دیں گے۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہاہم قومی خود مختاری کے حصول اور فتنے کو روکنے کی بنیاد پر لبنان میں (ریاست) کے ساتھ ایک نئے باب پر تعاون کے لیے تیار ہیں۔