اسلام آباد (محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار)پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنے تعاون میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ۔ اس سلسلے میں انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی (انمول)، اٹامک انرجی کینسر ہسپتال لاہور کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے علاقائی تعاون کے مرکز قرار دینےکی تختی باضابطہ طور پر پیش کی گئی ۔یہ تقریب ہفتہ کے روز لاہور انمول میں منعقد ہوئی۔انمول کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کولیبریٹنگ سینٹر قرار دینے کا فیصلہ اس سال فروری میں ویانا میں ہونے والے ایک باضابطہ معاہدے کے بعد کیا گیا اور اس معاہدے پر نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے دستخط کئے، جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی اقوامِ متحدہ کے ویانا دفتر میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح تقریب کے موقع پر موجود تھے۔یہ تقریب اس اہم اعزاز کی یادگار کے طور پر منعقد کی گئی جو پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال، خصوصاً کینسر کی تشخیص اور علاج کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔ ایک کولیبریٹنگ سینٹر کے طور پر انمول تحقیق، استعدادِ کار میں اضافہ اور تکنیکی تعاون کے ذریعےبین الاقوامی توانائی ایجنسی کے عالمی نیٹ ورک میں اپنا کردار ادا کرے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبر سائنس پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا کہ اٹامک انرجی کے کینسر ہسپتال ملک بھر کے مریضوں کے لئے حقیقی معنوں میں “امید کی کرن” ہیں کیوں کہ یہاں کسی بھی مریض کو علاج سے محروم نہیں رکھا جاتا۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ کولیبریٹنگ سینٹر کا درجہ ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ اضافی ذمہ داری بھی ہے اور یہ کینسر کے علاج کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیتوں پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے اور تاریخی اس پیش رفت کے بعد پاکستان کے پانچ ادارے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے کولیبریٹنگ سینٹرز بن چکے ہیں۔