کراچی ( اسٹاف رپورٹر) چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ظفر احمد راجپوت نے امتناع منشیات کے مقدمات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ نئی قائم کردہ انسداد منشیات کی خصوصی عدالتوں میں ججز اور عملے کی تعیناتی جلد از جلد عمل میں لائی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت کی سربراہی میں پروینشل جسٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں جیل اصلاحات کو حتمی شکل دینے اور ہائی کورٹس کی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر غور کیا گیا۔ اصلاحی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے مختلف ہائی کورٹس کی پالیسیوں کے درمیان موجود خلا کو ختم کر کے ایک مربوط اور ہم آہنگ نظام تشکیل دینے پر زور دیا۔ اجلاس میں جیلوں میں انسانی حقوق کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کے لئے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کا عزم کیا گیا۔ اجلاس میں سینئر پیونی جج جسٹس محمد اقبال کلہوڑو ، چیف سیکریٹری سندھ ، آئی جی سندھ، آئی جی جیل خانہ جات، ایڈووکیٹ جنرل سندھ ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ ، محکمہ داخلہ، قانون، خزانہ اور پراسیکیوشن کے سیکریٹریز بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر آئی جیل خانہ جات کی جانب سے جیلوں میں موجود قیدیوں کی تفصیلات پیش کیں۔ اجلاس میں جیلوں میں جاری تعمیراتی امور میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا گیا۔