• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے کلیدی معاشی اظہاریئے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالی سال کے آغاز میں پاکستان کے کلیدی معاشی اظہاریے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔مشرق وسطیٰ کا تنازع سے قبل معیشت مستحکم کرلی تھی،مہنگائی اوسطاً5.7فیصد رہی،کرنٹ اکائونٹ بیلنس سرپلس رہا۔ زرمبادلہ کے ذخائر16.4ارب ڈالر تک پہنچ گئے، ان خیالات کا اظہار انہوں نےکریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے عہدیداروں سے ملاقاتوں میں گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات نے نئے خطرات کو جنم دیا اور معاشی منظرنامے کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال میں اضافہ کیا ہے، تاہم ان ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے معیشت گذشتہ بحرانی اقساط کی نسبت بہتر پوزیشن میں ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے امریکا میں معروف عالمی مالی اور سرمایہ کاری کے اداروں بشمول جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن کے ساتھ ساتھ فچ، موڈیز، اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسی بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتوں میں کیا۔ جن کا اہتمام 13 تا 18 اپریل 2026ء تک آئی ایم ایف، عالمی بینک کی اسپرنگ میٹنگز کے موقع کیا گیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک گروپ کی قیادت کے ساتھ اہم دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ گورنر نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مہنگائی اوسطاً 5.7 فیصد رہی، بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس رہا، اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کی بین البینک مارکیٹ (interbank market) سے خریداری تھی۔
اہم خبریں سے مزید