حج اسلام کا پانچواں رُکن ہے، جس کی ادائی مالی استطاعت رکھنے والے ہر مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ حج کا اجتماع، دنیا کے بڑے اجتماعات میں سے ایک ہے، جہاں کا بدلا ہوا ماحول، سخت جسمانی سرگرمیاں، لمبی چہل قدمی، انتہائی گرم موسم اور لوگوں کا ازدحام وغیرہ ذیابطیس جیسی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔
اِسی لیے ایسے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ احتیاط و نگہہ داشت پر نظر رکھتے ہوئے اپنی صحت کی حفاظت کریں۔ اِس ضمن میں سعودی حکومت کی متعلقہ وزارت نے حج 2026(1447ھ) کے لیے کچھ قواعد و ضوابط طے کیے ہیں اور یہ مضمون اُن ہدایات ہی کے تحت قلم بند کیا گیا ہے۔
عازمینِ حج کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ ضرور حاصل کریں۔ اپنی بیماری پر صحت کے مجوّزہ اصولوں کے تحت قابو رکھیں تاکہ ویزا لینے اور دورانِ حج کسی ایمرجینسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جو ویکسینز تجویز کی گئی ہیں، اُنہیں ضرور بہ ضرور لگوائیں کہ کچھ افراد ویکسین سرٹیفکیٹ تو حاصل کرلیتے ہیں، مگر ویکیسن نہیں لگواتے۔ ایسا ہرگز مت کریں۔
خُود کو چاق چوبند رکھنے کے لیے ورزش کرتے رہیں تاکہ مناسکِ حج کی ادائی میں کوئی دشواری نہ ہو۔ ذیابطیس کے مریضوں کو دورانِ حج اِس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جیسے(1) جسمانی مشقّت: طواف اور سعی میں طویل چہل قدمی کرنی ہوتی ہے اور پھر ہجوم کے سبب دیگر مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
(2) شوگر لیول: اِس دوران شوگر کے بڑھنے یا گرنے جیسے مسائل نظرانداز نہیں کرنے چاہئیں۔
(3) سخت گرمی: سعودی عرب میں درجۂ حرارت 40ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرجاتا ہے، جو ناقابلِ برداشت گرمی کا باعث بنتا ہے۔
(4) پانی کی کمی کا خطرہ: زیادہ گرمی اور پسینے سے ڈی ہائیڈریشن کی کیفیت جنم لے سکتی ہے۔ شدید پیاس، منہ کا خشک ہونا، سردرد، تھکاوٹ، چکر آنا، گہرے پیلے رنگ کا پیشاب یا پیشاب میں کمی وغیرہ اِس کی اہم علامات ہیں۔ لہٰذا، جہاں موقع ملے، پانی پیتے رہیں اور علامات ظاہر ہونے کی صُورت میں فوراً طبّی مرکز سے رابطہ کریں۔
(5)چوٹ کا خطرہ: مناسکِ حج کی ادائی کے دَوران مسلسل چلنے سے پاؤں پر چوٹ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ چلنے سے پاؤں میں چھالے بھی ہو جاتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہجوم سے دُور رہنے کی ہرممکن کوشش کریں اور جلد بازی سے گریز کریں۔ حج پر جانے والے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے مخصوص جوتے تیار ہوتے ہیں، جو پاکستان میں باآسانی دست یاب ہیں، تو وہ ضرور لے لیں
(6) انفیکشن: ایک اہم چیز انفیکشن کا خطرہ ہے کہ ہجوم انفیکشنز کے خطرات کو ہوا دیتا ہے اور اگر شوگر کنٹرول میں نہ ہو، تو یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
بیان کردہ خطرات کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ
(1) سفر سے پہلے ڈاکٹر سے اپنا طبّی معائنہ کروائیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ ذیابطیس کنٹرول میں ہے یا نہیں۔ جسمانی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ اپنی ادویہ ایڈجسٹ کروائیں۔ تمام ادویہ اپنے معالج کے لیٹر ہیڈ پر لکھوائیں اور فٹنس سرٹیفکیٹ ضرور حاصل کریں۔
(2)عازمینِ حج کے لیے میننگوکوکل ویکسین(ACWY)، پولیو ویکسین اور کورونا ویکسین لگوانی ضروری ہیں، جو ہر صُورت لگوانی بھی چاہئیں۔
(3) سفرِ حج میں ساتھ لے جانے والی ادویہ کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ انسولین کے لیے ٹریولنگ بیگ اپنے ساتھ رکھیں، جب کہ دَورانِ حج انسولین کے ٹمپریچر کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ نیز، ادویہ کا ڈاکٹری نسخہ اور رپورٹس بھی ساتھ رکھیں۔ ادویہ کی اصل پیکنگ برقرار رکھیں، یعنی انہیں ہرگز کھول کر نہ رکھیں۔
(4) ذیابطیس کِٹ بھی اپنے ساتھ رکھیں، جس میں گلوکو میٹر، ٹیسٹ اسٹرپس، انسولین سرنج اور انسولین، چند ٹافیاں(جو شوگر گرنے کی صورت میں استعمال ہوں گی) اور میڈیکل آئی ڈی بریسلیٹ وغیرہ شامل ہوں۔
(5)کسی ایسے شخص کے ساتھ سفر کریں، جو آپ کی حالت سمجھتا ہو اور ہنگامی حالت میں مدد کرسکے۔
(6)حج کے دوران باقاعدگی سے اپنی بلڈ شوگر چیک کرتے رہیں۔
(7) اپنے کھانے کا خیال رکھیں۔ کھانے، ادویہ اور پانی کا مسلسل استعمال بے انتہا ضروری ہے۔ میٹھی اشیا کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے، جب کہ کھانے میں نمک کا استعمال ہلکا ہونا چاہیے۔ دورانِ حج بھوکا رہنے سے گریز کریں۔ بخار یا کوئی انفیکشن ہو جائے، تو باقاعدگی سے ادویہ استعمال کریں۔ اِس ضمن میں ڈاکٹر کی ہدایات پر ہر صُورت عمل کریں۔
اچانک بھوک لگنے، جسم میں کپکپاہٹ، ٹھنڈے پسینے، چکر، دل کی دھڑکن میں تیزی، کم زوری، دھندلا پن اور سر درد جیسی علامات ظاہر ہوں، تو فوراً میٹھا رس(جوس)، ٹافی یا گلوکوز کی گولی یا دو چمچ چینی، شہد کا استعمال کریں۔ پھر آدھے گھنٹے بعد دوبارہ شوگر چیک کریں، کم ہو تو، پھر یہی عمل دُہرائیں یا قریبی طبّی مرکز چلے جائیں۔
اگر ضرورت سے زیادہ پیشاب کی حاجت ہو، تھکاوٹ، دھندلاپن یا پسینہ آنے لگے، تو سمجھ جائیں، شوگر بڑھ رہی ہے، ایسی صُورت میں انسولین یا شوگر کی دوا لینی پڑ سکتی ہے۔ پانی کا استعمال زیادہ کریں اور اگر طبیعت زیادہ خراب ہو، تو فوراً طبّی مرکز سے رابطہ کریں۔
مناسکِ حج کی ادائی کے لیے
(1)خُود کو فِٹ رکھیں اور ایسا تب ہی ممکن ہے، جب شوگر کنٹرول میں ہو۔ مناسک کی ادائی میں جلد بازی نہ کریں۔ وقفے وقفے سے پانی پیئں۔ شوگر گرنے یا بڑھنے پر کچھ آرام کریں اور طبیعت بہتر ہونے پر مناسک ادا کرلیں۔
(2)مناسک کی ادائی کے لیے ٹھنڈے اوقات مثلاً صبح یا رات، بہتر ہیں۔
(3) پاؤں کی دیکھ بھال ہرگز نظرانداز نہ کریں۔ اپنے پیروں کو کسی کے پاؤں کے نیچے آنے یا ٹکرانے سے بچائیں، آرام دہ اور اچھی طرح سے فِٹ جوتے پہنیں۔ نئے جوتے حج پر جانے سے پہلے گھر پر پہن کر رواں کرلیں۔ روزانہ پاؤں کا معائنہ کریں اور اگر خدانخواستہ کوئی چھالا ہوجائے، تو قریبی طبّی مرکز سے رابطہ کریں۔
(4) زیادہ مشقّت سے پرہیز کریں۔
(5) ہاتھ بار بار دھوئیں(جب موقع ملے )، سینیٹائزر استعمال کریں، ہجوم میں ماسک پہنیں کہ رش کی وجہ سے سانس کے انفیکشن اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
روانگی سے قبل کی چیک لسٹ
(1)فٹنس سرٹیفکیٹ۔
(2)شوگر اچھی طرح کنٹرول میں ہے۔
(3)ویکسین ہوچُکی ہے۔
(4) ادویہ(شوگر، بلڈ پریشر اور چند ضروری) رکھ لیں۔
(5) ذیابطیس کٹ تیار ہے۔
(6) بلڈ شوگر کی مشین، اسٹرپس اور سوئیاں رکھ لیں۔
دورانِ حج اِن باتوں کا خصوصی خیال رکھنا ہے
(1)بلڈ شوگر کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ۔
(2)پانی کا مسلسل استعمال۔
(3)شدید گرمی سے بچنا ہے، اِس کے لیے چھتری کا استعمال اور مناسک کی ادائی ٹھنڈے وقت میں کیجیے۔
(4)اپنے ساتھ کچھ اسنیکس ضرور رکھیں۔
(5)ذیابطیس کا شناختی کارڈ ساتھ رکھیں۔
(6)شوگر بڑھنے اور گرنے کی علامات یاد رکھیں۔ ایمرجینسی صُورت میں شوگر چیک کریں۔ اگر چیک کرنا ممکن نہ ہو، تو علامات کے مطابق فیصلہ کریں۔
(7) اپنے قریبی طبّی مرکز کا پتا معلوم کرکے رکھیں تاکہ ایمرجینسی میں استفادہ کیا جاسکے۔
(8)ادویہ یا انسولین باقاعدگی سے لیں۔
( مضمون نگار، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کالج آف فیملی میڈیسن، کراچی اور میڈیا سیکریٹری PCDA ہیں)