اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) آبنائے ہرمز کا جھٹکا: تیل کی قیمتوں میں 7فیصد اضافہ، عالمی مالیاتی منڈیاں ہل کر رہ گئیں، برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 5.4 فیصد سے زائد کا اضافہ، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتیں تقریباً 6 فیصد تک بڑھ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز عالمی کرنسی اور اسٹاک مارکیٹس ’’وائپلش‘‘ (شدید اتار چڑھاؤ) کی کیفیت میں ڈوب گئیں کیونکہ سفارتی امیدوں کی نازک کھڑکی چکنا چور ہو گئی۔ مشرق وسطیٰ میں اچانک بدلتی صورتحال نے اسٹاکس کو ایک غیر مستحکم راستے پر ڈال دیا، جس کے نتیجے میں لندن اور پیرس کے اہم انڈیکس پیچھے ہٹ گئے، جبکہ ایشیائی منڈیوں میں ایک واضح فرق دیکھا گیا جہاں چین کی مارکیٹ تیزی سے اوپر گئی اور انڈیا میں محتاط رویہ اپنایا گیا۔ ریکارڈ بلند ترین قیمتوں اور توانائی کے نئے بحران کے درمیان یہ ’’کھینچا تانی‘‘ اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس نے تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر کی طرف دھکیل دیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 5.4 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 95 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتیں تقریباً 6 فیصد تک بڑھ گئیں۔ اس اضافے نے گزشتہ جمعہ کو ’’جنگ بندی کی امید‘‘ کے باعث ہونے والی قیمتوں کی بڑی گراوٹ کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ قیمتوں میں حالیہ تیزی اتوار کے روز سمندر میں ہونے والے ایک ہائی پروفائل (انتہائی حساس) ٹکراؤ کے بعد سامنے آئی ہے۔ تہران کے جمعہ کے روز اس اعلان کے باوجود کہ آبی راستہ ’’مکمل طور پر کھلا‘‘ ہے، امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی اپنی سخت بحری ناکہ بندی برقرار رکھی۔ یہ صورتحال اس وقت تصادم میں بدل گئی جب امریکی بحری جہاز یو ایس ایس اسپروینس نے ایران کے جھنڈے والے کنٹینر بردار جہاز ’’توسکا‘‘ کو روک لیا۔ رپورٹس کے مطابق، امریکی میرینز نے اس جہاز پر اس وقت قبضہ کر لیا جب اس نے مبینہ طور پر نافذ کردہ اقدامات کو نظر انداز کیا اور جہاز پر سوار ہونے کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے فوری جواب میں، ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکہ پر ’’قزاقی‘‘ اور ’’غیر قانونی بحری ناکہ بندی‘‘ جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس ’’وائپلش‘‘ یا اچانک آنے والے جھٹکے نے سرمایہ کاروں کو شدید پریشانی اور بھگدڑ میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکہ میںایس اینڈ پی 500 نے اپنی 7000 پوائنٹس کی حد کو برقرار رکھنے کی کوشش کی، حالانکہ ہائی ٹیک کمپنیوں کو تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ مائیکروسافٹ کے شیئرز اب اپنی ریکارڈ سطح سے 22 فیصد نیچے ٹریڈ کر رہے ہیں، کیونکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور طویل مدتی مہنگائی کے خوف نے اے آئی پریمیم (مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ملنے والی اضافی قیمت) کے اثر کو دبا دیا ہے۔ دبئی میں اس صورتحال کے اثرات فوری طور پر پیٹرول پمپوں پر محسوس کیے گئے۔ ریٹیل ایندھن (پیٹرول) کی قیمتوں میں آج تقریباً 30 فیصد اضافہ کر دیا گیا، جس کے بعد سپر 98 کی قیمت 3.39 درہم فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔