مونٹریال (اے ایف پی)مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی بحران نے کینیڈا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،مارچ میں کنزیومر پرائس انڈیکس 2.4فیصد تک پہنچ گیاہے جبکہ پٹرول کےنرخوں میںماہانہ بنیاد پر21.2فیصدریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔ پیر کے روز جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں کینیڈا میں مہنگائی کی شرح میں اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا اضافے کو قراردیا جارہا ہے اس اضافے نے عوام کی قوت خرید کومتاثرکردیا ہے اوروہ سخت پریشانہیں، ماہرین کےمطابق اس صورتحال کے پیش نظر بینک آف کینیڈا کاشرحِ سود پالیسی پر نظرثانی کاامکان ہے۔ کینیڈین ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس گزشتہ برس مارچ کے مقابلے میں 2.4فیصد تک جا پہنچا ہے، جبکہ فروری میں یہ شرح 1.8 فیصد تھی۔صرف ایک ماہ کے دوران قیمتوں میں0.9فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔