• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے خود ہی جنگ روک دی، مذاکرات کی شرائط بھی قبول نہیں، ایران

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) واشنگٹن اور تہران کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور مؤخر‘وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج اسلام آباد نہیں آئیں گے جبکہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے چیف آف آرمی اسٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈمارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہبازشریف کی درخواست پر ایران کو مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی خاطر جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈائیلاگ کے حتمی نتیجے تک فوج کوایران پر حملوں سے روکدیا ہے تاہم ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی ‘ امریکا مذاکرات کے لیے انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے ۔دوسری جانب تہران نے ڈائیلاگ کیلئے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر خود ہی سیز فائر میں توسیع کی ہے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر کا کہنا ہے کہ ہارنے والا فریق شرائط عائد نہیں کرسکتاجبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کا ایرانی آئل ٹینکر پرقبضہ اعلان جنگ کے مترادف ہے‘اپنا دفاع اور بدمعاشی کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں ۔پاسداران انقلاب نے خبردارکیاہے کہ اگرجنگ دوبارہ چھڑی توخطے کی تیل کی صنعت کو تباہ کر دیا جائے گا ۔اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب امیر سعید ایروانی کے مطابق اگر واشنگٹن بحری محاصرہ ختم کردے تو بات چیت کیلئے تیار ہیں ۔چینی وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیاہے کہ فریقین جنگ بندی مذاکرات کی رفتار برقرار رکھیں گے‘قطر کا کہنا ہے کہ پوری دنیا ان مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے‘ہم بھی اس میں شامل ہیں‘ مذاکرات کے حوالے سے امریکا سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے‘جبکہ جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نےکہاہے کہ ہم ایران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسلام آباد آئے اور امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات کرے‘سب کی خواہش ہے اس تنازعے کو جلد از جلد حل کیا جانا چاہیے‘تسنیم نیوز ایجنسی نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران نے باضابطہ طور پر امریکا کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ یہ مذاکرات وقت کا ضیاع ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکی فریق کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ آج اسلام آبادمیں موجود نہیں ہوگی اور فی الحال مذاکرات میں شرکت کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔دو علاقائی عہدیداروں نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہےکہ واشنگٹن اور تہران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جنگ بندی مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کریں گے جبکہ دونوں فریقین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئی تو مزید لڑائی کے لیے تیار ہیں‘ علاقائی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستانی ثالثوں کو اس بات کی تصدیق موصول ہوئی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف آج اسلام آباد پہنچیں گے ۔ قبل ازیں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا مذاکرات کے لیے انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے اورآبنائے ہرمز کو کنٹرول کررہاہے ‘ ایران کے پاس مذاکراتی وفد بھیجنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے‘ ہمارے درمیان ایک بہترین معاہدہ ہوگا‘ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ دشمن چاہتاہے ہم ہتھیار ڈال دیں مگر تہران دھمکیوں میں نہیںآئے گا جبکہ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے واضح کیا ہے کہ ممکنہ مذاکرات کے دوران تہران کی انگلی ٹریگر پر اور دفاعی فورسز مکمل تیاری کی حالت میں ہوں گی‘ ایرانی مذاکراتی ٹیم قومی مفادات پر معمولی سمجھوتہ بھی نہیں کرے گی‘ایک سینئرایرانی عہدیدار نےبرطانوی خبر ایجنسی کو بتایاکہ اگر واشنگٹن دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی ترک کر دے تو ایران مذاکرات میں شرکت کر سکتا ہے۔پاکستان، امریکا کو اس بات پر قائل کرنے کی کوششیں کررہا ہے کہ وہ ناکہ بندی ختم اور ایرانی جہازاور اس کے عملے کو رہا کرے جسے اتوار کوامریکی افواج نے قبضے میں لے لیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن ہر روز نئی رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ایران کے ایک سینئر کمانڈر نے دھمکی دی ہے کہ اگرجنگ دوبارہ چھڑی توخطے کی تیل کی صنعت کو تباہ کر دیا جائے گا۔پاسدارانِ انقلاب کے ایرو اسپیس چیف جنرل ماجد موسوی نے میڈیا کو بتایاکہ ایران کے خلاف جارحیت کرنا ایک بڑی غلطی ہوگی‘ اگر پڑوسی ممالک نے امریکا کو حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی تو انہیں مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار کو خدا حافظ کہہ دینا چاہیے۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کا ایرانی آئل ٹینکر پرقبضہ اعلان جنگ کے مترادف جبکہ بندرگاہوں کی ناکہ بندی سیزفائر کی خلاف ورزی ہے ۔سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں عراقچی کاکہناتھاکہ تجارتی جہاز پر حملہ کرنا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا اس سے بھی بڑی خلاف ورزی ہے‘ تہران جانتا ہے کہ پابندیوں کو کیسے بے اثر کرنا ہے‘ اپنے مفادات کا دفاع کیسے کرنا ہے اور بدمعاشی کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی کے مطابق تہران کو کچھ ایسے اشارے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔جیسے ہی واشنگٹن ناکہ بندی ختم کرے گا‘ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا۔ناکہ بندی اٹھانا نئے مذاکرات کے انعقاد کے لیے ایک شرط ہے۔تہران جنگ اور مذاکرات دونوں کیلئے تیار ہے ۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے منگل کو ایرانی سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ ایران نے تاحال پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دو ایرانی بحری جہازوں کے خلاف امریکی اقدامات سمندر میں قزاقی اور ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا واشنگٹن مذاکرات میں سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل منگل کی شب صدرٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہاکہ وہ اس وقت تک جنگ بندی میں توسیع کریں گے جب تک ایران تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی تجویز پیش نہیں کرتا۔اپنے بیان میں امریکی صدر کاکہناتھاکہ اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور جس کی توقع بھی تھی ،اورپاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر، ہم سے کہا گیا ہے کہ ایران پر اپنا حملہ اس وقت تک روک دیں جب تک ان کے لیڈر اور نمائندے کوئی متفقہ تجویز پیش نہیں کر دیتے۔نیویارک سے عظیم ایم میاں کے مطابق  ایران سے جواب نہ ملنے پر امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان عارضی مؤخر، تہران نے امریکی شرائط پر فوری جواب نہیں دیا، جنگ بندی غیر یقینی، مذاکرات کا مستقبل دھندلا پڑ گیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن مذاکرات کے نئے دور کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اسلام آباد کا دورہ عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے کیونکہ تہران نے امریکی شرائط پر فوری جواب نہیں دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں مذاکرات میں شرکت کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا اور واشنگٹن کے متضاد پیغامات اس تاخیر کی وجہ ہیں۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں توسیع مشکل ہوگی۔ اسی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

اہم خبریں سے مزید