کراچی (نیوز ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو نشانہ بناتے ہوئے پابندیوں کے ایک نئے مرحلے پر عمل درآمد کر دیا ہے، یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سفارتی مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے اور امریکا و ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے ایک بیان کے مطابق، ان نئی پابندیوں کی زد میں ایران، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے 14 ایسے افراد، کمپنیاں اور طیارے آئے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ہتھیاروں یا ڈرونز کے پرزہ جات کے حصول یا ان کی نقل و حمل میں ملوث ہیں۔وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا، "ایرانی حکومت کو عالمی توانائی کی منڈیوں سے جبری وصولی (بھتہ خوری) اور میزائلوں و ڈرونز کے ذریعے عام شہریوں کو بلا امتیاز نشانہ بنانے پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔"ان پابندیوں میں ایک پہلے سے پابندی شدہ ایرانی کمپنی سے وابستہ تین افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جس نے یک طرفہ حملے کرنے والے یو اے وی (UAV) ایپلی کیشنز کے لیے ہزاروںسرو موٹرز حاصل کی تھیں، جو مار گرائے گئےشاہد-136ڈرونز میں پائی گئی ہیں۔" تہران نے جنگ کے دوران امریکی اور خلیج فارس کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لئے ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔