اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) عالمی مالیاتی منڈیاں منگل کے روز اس وقت محتاط ہوگئیں جب تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد تک اضافہ ہوا، جس نے برینٹ کروڈ کو 100 ڈالر کی حد کے قریب پہنچا دیا، کیونکہ ایران تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ بندی کے مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا۔ برینٹ کروڈ 4.30 ڈالر (4.5فیصد ) اضافے کے ساتھ 99.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 4.75 ڈالر (5.3 فیصد) اضافے سے 94.36 ڈالر پر پہنچ گیا، جو حالیہ ہفتوں میں ایک دن کے اندر ہونے والے سب سے بڑے اضافے میں سے ایک ہے۔ قیمتوں میں یہ تیزی نئی فوجی کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے تعطل کے بعد سپلائی میں خلل کے خدشات کی وجہ سے دیکھی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اشارے کے بعد کہ وہ ایران جنگ میں جلد ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے، مارکیٹ کے جذبات مزید کمزور ہو گئے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی افواج ’’جانے کے لیے بے تاب‘‘ ہیں۔ مارکیٹ نے اس غیر یقینی صورتحال پر بھی ردعمل دیا کہ آیا ایران آخری لمحات کے امن مذاکرات میں شرکت کرے گا یا نہیں، جس نے طویل تنازع کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔ امریکا میں، اتار چڑھاؤ کے درمیان حصص (ایکویٹیز) گراوٹ پر ختم ہوئے۔ ایس اینڈ پی 500 میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ نصداق کمپوزٹ میں زیادہ تیزی سے گراوٹ آئی کیونکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی اور شرح نمو کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے۔ ڈاؤ جونز انڈسٹری ایورج نسبتاً مستحکم رہا، جسے توانائی اور دفاعی شعبے کے حصص میں ہونے والے اضافے سے سہارا ملا۔ تجارت پر ’’سیکٹر روٹیشن‘‘ (شعبہ جاتی تبدیلی) حاوی رہی، جس میں تیل کی بڑی کمپنیوں کے حصص میں زبردست تیزی دیکھی گئی جبکہ ٹیکنالوجی، صارفین اور ایئر لائنز کے حصص ایندھن کی زیادہ لاگت اور طلب میں کمی کی توقعات کے باعث دباؤ کا شکار رہے۔ یورپی حصص میں بھی گراوٹ دیکھی گئی، اور اسٹاکس یورو 600 معمولی کمی کے ساتھ بند ہوا۔ توانائی اور دفاعی شعبے کے حصص آگے بڑھے، لیکن ٹرانسپورٹ، صنعتی شعبے اور ہوا بازی میں ہونے والے نقصانات نے مجموعی کارکردگی کو نیچے دھکیل دیا۔