• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

IMF کیساتھ نئی 5 سالہ آٹو پالیسی پر اتفاق، درآمدی گاڑیوں پر ٹیرف 4 برس میں 10.6 سے 7.4 فیصد کیا جائے گا

اسلام آباد (مہتاب حیدر) پاکستان نے آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ پانچ سالہ نئی آٹو سیکٹر پالیسی متعارف کروانے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت گاڑیوں کی درآمدات پر’’ویٹڈ ایوریج ٹیرف‘‘(درآمدی گاڑیوں کی مالیت کے حساب سے ٹیکس) کو 2030 تک چار سالوں میں10.6 فیصد سے کم کر کے 7.4 فیصد پر لایا جائے گا۔7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ یہ بھی طے پایا ہے کہ درآمدات پر کوئی ریگولیٹری ڈیوٹی (RD) نافذ نہیں کی جائے گی۔ توقع ہے کہ مالی سال 27-2026 کے آئندہ بجٹ میں، جو ممکنہ طور پر یکم جون 2026 کو پیش کیا جائے گا، ویٹڈ ایوریج ٹیرف 10.6 فیصد سے کم ہو کر 9.5 فیصد ہو جائے گا۔آٹو سیکٹر کی درآمدات کو آزادانہ بنانے کے لئے ایک نئی آٹو پالیسی پیش کی جائے گی جو فی الوقت تیاری کے مراحل میں ہے۔ یہ پالیسی رواں ماہ کے اختتام تک عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔مشیر وزیراعظم ہارون اختر کا کہنا ہے کہ آٹو سیکٹر پالیسی ایڈوانس اسٹیج پر ہے ، اسے وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اسے عوامی سطح پر جاری کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابقاعلیٰ سرکاری ذرائع نے منگل کے روزدی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ"نئی آٹو پالیسی نیشنل ٹیرف پالیسی (NTP) کے تحت ڈیوٹی میں کمی کے نفاذ کا ایک روڈ میپ پیش کرے گی تاکہ ویٹڈ ایوریج کو مالی سال 2025 کے 10.6 فیصد سے کم کر کے مالی سال 2030 تک 7.4 فیصد تک لایا جا سکے۔

اہم خبریں سے مزید