• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایجوکیشن سٹی کیلئے اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ، فریال تالپور، ڈاکٹر عاصم و دیگر کو نوٹس

کراچی ( محمد منصف )سندھ ہائی کورٹ نے ضلع ملیر میں ایجوکیشن سٹی کے نام پر اربوں روپے مالیت کی 19 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کی مبینہ غیرقانونی الاٹمنٹ کیخلاف پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین، چیئرمین نیب، چیف سیکرٹری سندھ، کمشنر کراچی، ڈی سی ملیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ منصوبے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی، اربوں روپے کی زمین ملی بھگت سے منتقل کی گئی ، زمینوں پر قبضہ کرکے مقامی ہاریوں کے حقوق پامال کیے گئے،تمام الاٹمنٹس کالعدم قرار دیئے جائیں۔آئندہ سماعت چار ہفتوں کے بعد ہوگی۔ جواب طلبی کیلئے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سندھ، سیکریٹری بورڈ آف ریونیو، سٹی سروے، اے سی ملیر، بن قاسم، ایس ایس پی ملیر، مختیارکار ملیر کو بھی نوٹس جاری کئے ہیں۔ جسٹس عدنان الکریم اور جسٹس ذوالفقار سانگی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس سماعت کیا۔ درخواست گزار کے وکیل غلام اکبر جتوئی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ آئینی درخواست ملیر ضلع کی مختلف دیہہ میں تقریباً 19 ہزار 600 ایکڑ سرکاری زمین کی مبینہ غیرقانونی الاٹمنٹ کے خلاف دائر کی گئی ہے، جسکی مالیت اربوں روپے بنتی ہے۔ وکیل کے مطابق متعلقہ حکام نے بغیر مناسب جانچ پڑتال کے مذکورہ زمین “ایجوکیشن سٹی” کے نام پر الاٹ کی، تاہم آج تک اس منصوبے پر کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ 19,600 ایکڑ زمین مبینہ طور پر مڈل مین کے ذریعے اصل فائدہ اٹھانے والوں کو منتقل کی گئی، جس میں متعلقہ حکام کی ملی بھگت شامل ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ زمین کی الاٹمنٹ کے عوض کوئی رقم ادا نہیں کی گئی اور سارا عمل غیرقانونی اور غیر آئینی ہے۔

اہم خبریں سے مزید