اسلام آباد (محمد صالح ظافر/ خصوصی تجزیہ نگار) بنگلہ دیش کی بری افواج کے سربراہ جنرل وقار بیت اللہ کی سعادت حاصل کی تھی، اب داڑھی رکھ لی ہے جو ان کے وقار میں اضافہ کررہی ہے، وہ گزشتہ ہفتے ہی ترکی کے پانچ روزہ سرکاری دورے سے واپس آئے ہیں، وہ باریش ہوکر گئے تھے چونکہ حج سے واپسی سے انہوں نے داڑھی نہیں بڑھائی تھی، ان کی اس وضع میں تبدیلی کو بڑی دلچسپ سے دیکھا جارہا ہے، جنرل وقار الرحمان کی موجودگی میں بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کو اپنے ملک کے طالب عموں کے ملک گیر احتجاج کے بعد وطن میں نوجوانوں کی بھاری تعداد نے حصہ لیا تھا۔ ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں5 اگست 2024ء کو فرار ہوکر بھارت میں سیاسی پناہ لی، ایک فوجی چھائونی میں پناہ لینا پڑی تھی، بنگلہ دیش کے عوامی احتجاج میں شیخ حسینہ کو بھارت کا حاشیہ بردار قرار دے کر نفرت کا نشانہ بنایا گیا تھا، بنگلہ دیش نے بھارت سے متعدد مرتبہ شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے لیکن نئی دہلی کی حکوت لگاتار لیت و لعل سے کام لے رہی ہے، شیخ حسینہ کو ایک انٹر نیشنل ٹریبونل نے اتنے سنگین انسانی جرائم کی پاداش میں سزائے موت سنا رکھی ہے، حال ہی میں اس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اختتام سال رضاکارانہ طور پر بنگلہ دیش واپس آجائے گی، جس پر ڈھاکہ میں ایک وزیر نے اعلان کیا تھا کہ شیخ حسینہ واپسی آئی تو اس کی سزا پر عملدرآمد ہوگا۔ جنرل وقار الرحمن جون 2024ء میں بنگلہ دیش کی فوج کے سربراہ بنے تھے، ملک کی بی این پی کی حکومت آئندہ سال ان کی معیاد خدمات کی تکمیل پر مزید مدت کے لئے اس منصب پر برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وہ بنگلہ دیش کے عوام میں غیر معمولی طور پر مقبول ہیں۔ اتوار کو ڈھاکہ چھائونی کی فوجی تقریب میں وزیراعظم طارق الرحمن کے برابر پہلی مرتبہ باریش صورت میں دکھائی دیئے، جس میں وہ بہت بھلے لگ رہے تھے۔