کراچی (نیوز ڈیسک) مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں، آبادکار حملے، تل ابیب میں احتجاج، نیتن یاہو کے حکم پر وسیع فوجی آپریشن، درجنوں شہروں اور دیہات میں چھاپے، سیکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ دو مساجد کو نذرِ آتش کرنیکی کوشش، نفرت انگیز نعرے درج، فلسطینی گھر مسمار کرنیکی تیاری، تل ابیب میں 9مظاہرین گرفتار کر لیے گئے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن تیز کرتے ہوئے متعدد شہروں اور دیہات میں چھاپے مارے، سیکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کیا اور کئی علاقوں میں سخت سکیورٹی پابندیاں نافذ کر دیں۔ یہ کارروائیاں نابلس کے قریب تل گاؤں میں ہونے والی جھڑپ کے بعد شروع کی گئیں، جس میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس دوران یہودی آبادکاروں نے کئی دیہات پر حملے کیے، قصرہ میں واقع الرحمہ مسجد سمیت دو مساجد کو آگ لگانے کی کوشش کی اور عمارتوں پر "یہودی انتقام" جیسے نعرے تحریر کیے۔ فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق امدادی کارکنوں پر بھی حملے کیے گئے، جبکہ جنین، رام اللہ، الخلیل، بیت لحم اور طولکرم سمیت مختلف علاقوں میں گرفتاریاں جاری رہیں۔ اسرائیلی فوج نے تل گاؤں میں بعض فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں اجتماعی سزا قرار دیتی ہیں۔ اقوام متحدہ اور حقوقِ انسانی کے اداروں نے آبادکاروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ تل ابیب میں آبادکاروں کے تشدد کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے نو مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔