• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیویارک کے اسکول میں روبوٹ ٹیچر متعارف کرانے پر اساتذہ اور مقامی آبادی کا احتجاج

کراچی (نیوز ڈیسک) نیویارک کے اسکول میں روبوٹ ٹیچر متعارف کرانے پر اساتذہ اور مقامی آبادی کا احتجاج، 58ہزار ڈالر مالیت کا یہ ہیومنائیڈ روبوٹ طلبہ کو ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کرے گا اور آن لائن بھی دستیاب ہوگا۔ ٹیکنالوجی اساتذہ کی مدد کر سکتی ہے مگر انسانی متبادل نہیں بن سکتی، محکمہ تعلیم نے بھی تحفظات کا اظہار کر دیا۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست نیویارک کے شہر سلامانکا ہائی اسکول میں موسم خزاں 2026 سے "سیلی" نامی ہیومنائیڈ روبوٹ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تدریسی معاون متعارف کرانے کے منصوبے پر اساتذہ، مقامی رہائشیوں اور ریاستی محکمہ تعلیم نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تقریباً 57 ہزار 590 ڈالر مالیت کا یہ روبوٹ طلبہ کو ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کرے گا اور آن لائن بھی دستیاب ہوگا، تاہم اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس سے تدریس کا عمل غیر انسانی بنے گا، طلبہ کی رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ مقامی سینیگا قوم کے افراد نے اعتراض کیا کہ بڑی تعداد میں مقامی امریکی طلبہ والے اسکول کو تجربے کے لیے منتخب کرنا ثقافتی طور پر بے حسی کا مظاہرہ ہے۔ دوسری جانب روبوٹ بنانے والی کمپنی ریئل بوٹکس کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ اساتذہ کی جگہ لینے کے لیے نہیں بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کی تعلیم میں معاونت کے لیے ہے، جبکہ نیویارک کے محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ ٹیکنالوجی اساتذہ کی مدد کر سکتی ہے مگر انسانی فیصلے اور ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتی۔
اہم خبریں سے مزید