• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب سے 45 لاکھ، سندھ سے 6 لاکھ ٹن گندم غائب ہونے کا انکشاف

اسلام آباد (رپورٹ: حنیف خالد) پنجاب سے مبینہ طور پر 45لاکھ ٹن گندم کے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ سندھ میں بھی 6 لاکھ ٹن گندم کے ریکارڈ سے غائب ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، گندم بحران کی تحقیقات نہ ہوئیں تو درآمدی بل ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ،جس پر گندم کے بحران اور ممکنہ ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب سے گندم غائب ہونے کا انکشاف ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہوا، جس میں پنجاب کے افسران نے دیگر صوبوں سے دریافت کیا کہ آیا یہ گندم ان کے صوبوں میں منتقل ہوئی ہے، تاہم دیگر صوبوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ گندم ذخیرہ اندوزی کا شکار ہوئی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3,500روپے فی من مقرر کی تھی، جس کے باعث نجی شعبے نے گندم کی خریداری میں دلچسپی نہیں لی۔ پنجاب حکومت نے نجی شعبے کو سہولت فراہم کرتے ہوئے گندم خریدنے کی ترغیب دی، تاہم نجی شعبے نے گندم کی خریداری کے لیے بینکوں سے قرضے دلوانے کا مطالبہ کیا۔ سیزن کے آغاز میں سندھ اور خیبرپختونخوا میں گندم کی قیمت 4,500 روپے فی من تک پہنچ گئی، جبکہ ذخیرہ اندوزوں نے کسانوں سے ٹیکس اور پرمٹ کے بغیر گندم خرید کر ذخیرہ کرلی۔ ماہرین کے مطابق پنجاب میں گزشتہ دو، تین سال سے ایسی پالیسی اختیار کی جا رہی تھی جس کے تحت سرکاری خریداری کے بجائے نجی شعبے کو گندم خریدنا تھی۔

اہم خبریں سے مزید