• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جامعہ ملیہ کالج ملیر کی اراضی پر لینڈ مافیا کا قبضہ، عدالتی احکامات کے باوجود تعمیرات جاری، رپورٹ میں سنگین انکشافات

کراچی(سید محمد عسکری اسٹاف رپورٹر) جامعہ ملیہ کالج ملیر کی اراضی پر لینڈ مافیا کا قبضہ، عدالتی احکامات کے باوجود تعمیرات جاری،جامعہ ملیہ گورنمنٹ ڈگری کالج (میل) ملیر کی قیمتی سرکاری اراضی پر مبینہ لینڈ گریبنگ، غیر قانونی تعمیرات اور قبضوں کے حوالے سے ایک تفصیلی اور جامع رپورٹ میں سنگین حقائق سامنے آئے ہیں، جس میں اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت اور کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔ ریجنل ڈائریکٹر کالجز کو ارسال کردہ رپورٹ کے مطابق ادارہ 1952میں قائم ہوا اور اس کا کل رقبہ تقریباً 2لاکھ 78ہزار 787مربع فٹ ہے، تاہم ریونیو ریکارڈ کی عدم دستیابی، ماضی میں نامکمل حد بندی اور سرکاری سطح پر غفلت کے باعث اراضی کے تحفظ میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ قومیانے (1972) کے بعد کالج کی صرف تعلیمی عمارتوں کا کنٹرول لیا گیا جبکہ رہائشی اور دیگر اراضی کا ریکارڈ مکمل طور پر منتقل نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں کالج کے مختلف حصوں بشمول پرائمری و سیکنڈری اسکولز، ڈگری کالج، ہاسٹل، لائبریری، انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، سوئمنگ پول، جمخانہ، اساتذہ و غیر تدریسی عملے کے کوارٹرز اور کھیل کے میدانوں کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، جن میں سے متعدد مقامات پر قبضوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق کالج کو کئی برسوں سے منظم انداز میں لینڈ مافیا کا سامنا ہے۔ 2006 میں سروے نمبر 216 کے تحت کالج کے کھیل کے میدان پر قبضے کی کوشش کی گئی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناع حاصل کیا گیا۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 13 اپریل 2026 کو اسی متنازعہ زمین پر دوبارہ غیر قانونی تعمیرات کا آغاز کر دیا گیا، جو عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں 2020-21 کے دوران کالج گیراج پر نامعلوم افراد کے قبضے کی نشاندہی کی گئی، جبکہ جمخانہ (کیفیٹیریا) کے ایک حصے پر غیر قانونی دیوار اور تعمیرات قائم کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض افراد نے ملحقہ رہائشی منصوبوں کے ساتھ دکانیں بھی تعمیر کر لی ہیں، جس سے سرکاری زمین کے کمرشل استعمال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید