پاکستان گلوبل آؤٹ سورسنگ ٹیلنٹ انڈیکس میں 16ویں نمبر پر آ گیا۔
انڈیکس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی ٹیک انڈسٹری سالانہ بنیادوں پر 20 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے، بہتر ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے ذریعے پاکستان 16 ویں سے 11 ویں نمبر تک جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے رپورٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی اور آؤٹ سورسنگ کا عالمی مرکز بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور وزارتِ آئی ٹی کا ہدف ملک کو عالمی ٹیک حب بنانا ہے۔
وزیرِ آئی ٹی کے مطابق اسپیکٹرم آکشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ فائبرائزیشن پلان پر تیزی سے کام جاری ہے، 3 نئی سب میرین کیبلز کے ذریعے انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں مزید بہتری آئے گی۔
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ چین اور وسطی ایشیاء سے زمینی ڈیجیٹل روابط مضبوط بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 10 لاکھ نوجوانوں کو اے آئی اسکلز کی تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ ڈیجی اسکلز پروگرام کے ذریعے فری لانسنگ اور ٹیک مہارتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیرِ آئی ٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ میں پاکستان نے 40 سے زائد عالمی ٹیک ایونٹس میں شرکت کی جبکہ 400 سے زائد پاکستانی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کی عالمی سطح پر نمائندگی کی گئی ہے۔