کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) ایڈیشنل آئی جی کراچی نے مبینہ طور پر منشیات فروشوں کی سرپرستی میں ملوث ڈسٹرکٹ ملیر کے افسران و اہلکاروں کیخلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ او سکھن سمیت 5 اہلکار وں کومعطل کر کے بی کمپنی بھیج دیا ۔ تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے منشیات فروشی اور دیگر آرگنائزجرائم کی سرپرستی کا میں ملوث تھانیداروں اور اہلکاروں کے خلاف ایکشن لے لیا، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے مبینہ طور پر منیشات فروشوں اور منظم جرائم کی سرپرستی میں ملوث ایس ایچ او سکھن خالد حسین سمیت 5 اہلکار وں کو معطل کر دیا ، معطل کیے جانے والوںمیں ہیڈ کانسٹیبل عبدالجبار منگی ، کانسٹیبل نور محمد ، کانسٹیبل ولایت خان نیازی اور سپاہی عبدالخالد شامل ہیں ، معطل کئے جانے والے ایس ایچ او و اہلکاروں کو بی کمپنی گارڈن ہیڈ کوارٹر ساؤتھ رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں ، پولیس ذرائع نے بتایا کہ ایس ایچ او خالد حسین میمن پر منشیات فروشوں اور دیگر منظم جرائم میں ملوث ملزمان سے رشوت لینے کا بھی الزام ہے جس کی تحقیقات جاری ہیں ، واضح رہے موجودہ آئی جی جاوید عالم اوڈھو جب وہ ر ایڈیشنل آئی جی کراچی تھے ، وہ محکمہ پولیس میں بی کمپنی کے سخت خلاف تھے تاہم اب جبکہ وہ خود آئی جی سندھ ہیں انہوں نے بھی بی کمپنی کو بحال رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، ایڈیشنل آئی جی سندھ نے تینوں زونل ڈی آئی جیز اور ڈسٹرکٹ کے ایس ایس پیز کو سخت ہدایات دی ہیں کہ وہ تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو متنبہ کر دیں کہ ان کے علاقوں میں کسی بھی قسم کا جرم چل رہا اسے فوری ختم کرا دیں اگر انہیں کسی بھی علاقے میں گٹکا ، ماوا ، منشیات ، جوا سٹہ چلنے کی اطلاع ملی تو اس تھانے کے ایس ایچ اوز سمیت دیگر عملہ کو معطل کیا جائے گا بلکہ اس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی ۔