• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایڈز کیسز میں مبینہ اضافہ، مستند ڈیٹا غائب، محکمہ صحت سندھ کی خاموشی پر سوالات

کراچی (بابر علی اعوان)ایڈز کیسز میں مبینہ اضافہ، مستند ڈیٹا غائب، محکمہ صحت سندھ کی خاموشی پر سوالات، ماہرین کا شفاف ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ، سندھ میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے متعلق صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کرنے لگی، سرکاری اعداد و شمار سامنے نہ آسکے۔ عوامی صحت جیسے حساس معاملے پر اعداد و شمار کا غائب ہونا تشویش ناک، اصل صورتحال زیادہ سنگین ہونے کے خدشہ کو تقویت۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ سے متعلق صورتحال خطرناک موڑ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایک جانب رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں کیسز کے غیر سرکاری اعداد و شمار سیکڑوں میں سامنے آ رہے ہیں، وہیں دوسری جانب محکمہ صحت کی مسلسل خاموشی اور مستند ڈیٹا جاری نہ کرنا سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ عوامی صحت جیسے حساس معاملے پر اعداد و شمار کا غائب ہونا نہ صرف تشویش میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ اس خدشے کو بھی تقویت دے رہا ہے کہ کہیں اصل صورتحال اس سے زیادہ سنگین تو نہیں۔ چند روز قبل میڈیکل مائیکرو بایولوجی اینڈ انفیکشس ڈیزیزز سوسائٹی آف پاکستان کی جانب سے جاری وائٹ پیپر میں ملک میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، جس میں سندھ کے آؤٹ بریکس کا حوالہ بھی دیا گیا تاہم موجودہ صورتحال پر سرکاری سطح پر وضاحت اور اعداد و شمار کی عدم فراہمی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں رواں سال کے ابتدائی مہینوں کے دوران نئے کیسز میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، مگر سرکاری ادارے ان اعداد و شمار کی تصدیق یا تردید کے لیے واضح ڈیٹا فراہم کرنے سے گریزاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق شفاف ڈیٹا کی عدم دستیابی نہ صرف پالیسی سازی کو متاثر کرتی ہے بلکہ عوام کو بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے بھی محروم رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں شعبہ کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول ون ایچ آئی وی / ایڈز کی ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر کنول مصطفیٰ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے براہ راست اعداد و شمار فراہم کرنے کے بجائے محکمہ صحت کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک وضاحتی بیان کا لنک شیئر کیا۔ مذکورہ بیان میں میڈیا رپورٹس کو “غیر مصدقہ” قرار دیا گیا، تاہم اس میں کہیں بھی تازہ کیسز کی تفصیل یا مستند اعداد و شمار شامل نہیں تھے۔ مزید استفسار کے باوجود ڈاکٹر کنول مصطفیٰ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اہم خبریں سے مزید