اسلام آباد( قاسم عباسی) کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے نور پور شاہان میں ایک بڑے پیمانے پر زمین واگزاری آپریشن مکمل کرتے ہوئے تقریباً 612 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی واگزار کرا لی ہے، جس کی مالیت اربوں روپے بتائی جاتی ہے۔یہ آپریشن، جو چھ ماہ سے زائد عرصے پر محیط رہا اور اب بھی جاری ہے، اس دوران تقریباً 3,500 گھرانوں کو منتقل کیا گیا جبکہ دہائیوں سے ناجائز قابض افراد کے زیرِ استعمال سرکاری زمین کو واپس حاصل کیا گیا۔سی ڈی اے کی فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق یہ زمین دراصل 2,146 ایکڑ کے بڑے رقبے کا حصہ ہے، جو 1960 کی دہائی کے اوائل میں دارالحکومت کی ترقی کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔اس واگزاری مہم کی قانونی بنیاد 1961، 1963 اور 1964 میں جاری کیے گئے تین سرکاری ایوارڈز پر مبنی ہے۔ اس وقت کے معاوضہ نظام کے تحت سی ڈی اے نے اصل مالکان کو وسیع مراعات فراہم کیں، جن میں ہر 4 کنال قابلِ کاشت زمین کے بدلے پنجاب میں 100 کنال زرعی زمین الاٹ کرنا شامل تھا۔ریکارڈ کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں تقریباً 4,900 کنال زمین الاٹ کی گئی، 357 متاثرین کو اہلیت سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے اور اسلام آباد کے سیکٹر I-9 میں 200 سے زائد رہائشی پلاٹس فراہم کیے گئے۔ اس کے علاوہ تعمیر شدہ جائیداد کے دعووں کے تحت تقریباً 800 گھرانوں کو 31 لاکھ 28 ہزار روپے ادا کیے گئے۔آپریشن مرحلہ وار اور محلہ وار بنیاد پر 2025 کے آخر میں شروع کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں مسلم کالونی کو نشانہ بنایا گیا جہاں نومبر سے دسمبر کے دوران تقریباً 2,200 مکانات مسمار کیے گئے۔دوسرے مرحلے میں جنوری سے فروری 2026 کے دوران محلہ اسپلال، لالہ جی سرکار، نیرولا اور نریل میں 1,000 سے زائد یونٹس کو خالی کرایا گیا۔آپریشن کا آخری مرحلہ اپریل کے وسط میں مکمل ہوا جب ہائی کورٹ نے نوری باغ سے متعلق حکمِ امتناع ختم کر دیا، جس کے بعد باقی ماندہ 70 مکانات اور 35 دکانیں بھی مسمار کر دی گئیں۔حکام نے واضح کیا کہ کارروائی صرف ان علاقوں میں کی گئی جو نوٹیفائیڈ نور پور شاہان ماڈل ویلج کی حدود سے باہر تھے۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تجاوزات محض کچی آبادیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ باقاعدہ تجارتی سرگرمیوں میں تبدیل ہو چکی تھیں۔ بعض افراد، جنہیں پہلے ہی معاوضہ دیا جا چکا تھا، نے غیر قانونی طور پر اپنی زمینوں میں توسیع کرتے ہوئے بڑے گھروں، فارم ہاؤسز اور کرائے پر دی جانے والی جائیدادیں تعمیر کر رکھی تھیں۔کئی جگہوں پر یہ زمینیں کرایہ داری اور گوداموں کے طور پر استعمال ہو رہی تھیں، جس پر سی ڈی اے نے منظم تجاوزات اور غیر قانونی تجارتی استعمال میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کرنا شروع کر دیے ہیں۔سی ڈی اے کے دعوے کےمطابق یہ مکمل آپریشن قانونی تقاضوں کے مطابق کیا گیا، جس میں مرحلہ وار نوٹسز اور سائٹ ہیرنگز شامل تھیں۔ 19 جنوری 2026 کو جاری کردہ ایک باضابطہ حکم میں ان قبضوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا، جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ اس قیمتی سرکاری زمین کی واگزاری سے 1960 کی دہائی میں کیے گئے اصل منصوبے کے مطابق اسے عوامی مفاد کے لیے استعمال میں لانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔