حیدرآباد (بیورو رپورٹ) حکومت سندھ کا محکمہ صحت مبینہ طور پر غیرفعال‘ سندھ میں رواں برس خسرے سے40اموات ہونے کا انکشاف‘ ملک کے دیگر صوبوں سے سندھ سب سے آگے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے بیماریوں سے بچاؤ کے لیے پروگرام‘ سیمینار اور آگہی پروگرام کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات اٹھانے کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر وہ دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں کیونکہ محکمہ صحت کے مجاز حکام و افسران کی نااہلی کی وجہ سے بیماریوں کی وجہ سے سندھ میں اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں خسرہ ایک بار پھر خطرناک صورت اختیار کرگیا ہے جہاں رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران71بچے اس موذی مرض کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں سے 40اموات صرف سندھ میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خسرہ سے ہونے والی اموات میں سندھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 12‘ 12اور بلوچستان میں 4 اموات رپورٹ ہوئیں۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک بھر میں خسرہ کے4,541 مصدقہ کیسز سامنے آئے جن میں خیبر پختونخوا میں1,712، پنجاب میں 1,198، سندھ میں 1,183، بلوچستان میں197، آزاد کشمیر میں151، اسلام آباد میں55اور گلگت بلتستان میں45کیسز شامل ہیں دوسری جانب عالمی سطح پر 24سے 30اپریل تک منائے جانے والے عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے سلسلے میں ہفتہ کے روز مختلف آگہی سرگرمیاں منعقد کی گئیں لیکن خسرے سے اموات نے سرکاری محکموں کے متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔