• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیکب آباد تا لاڑکانہ ریلوے لائن اربوں روپے کا اثاثہ کباڑیوں اور قبضہ مافیہ کی نذر

جیکب آباد (نامہ نگار خاوند بخش بھٹی) جیکب آبادتالاڑکانہ ریلوے لائن اربوں کا اثاثہ،کباڑیوں اور قبضہ مافیاکی نذر،حکام کی مجرمانہ خاموشی،،تاریخی ریلوے سیکشن ʼکھنڈرʼ بن گیا، پٹریاں چوری، اسٹیشنوں پر قبضہ، ٹرانسپورٹ مافیا کی اجارہ داری،چاول کی تجارت تباہ، عوام لٹنے پر مجبور تفصیلات کے مطابق قیامِ پاکستان سے قبل برطانوی دَور میں تعمیر ہونے والی جیکب آباد تالاڑکانہ براستہ اوستہ محمد و شہداد کوٹ ریلوے لائنجو کبھی لاکھوں مسافروں اور کروڑوں کے تجارتی سامان کی لائف لائن تھی، آج بااثر مافیا، کرپٹ پولیس اور کباڑیوں کے گٹھ جوڑ کے باعث داستان بن چکی ہے۔ 100 کلو میٹر سے زائد طویل اس ریلوے ٹریک کو نہ صرف مکمل طور پر اکھاڑ کر فروخت کر دیا گیا ہے بلکہ اس کی قیمتی اراضی پر قبضہ مافیا نے مکانات اور پلازے تعمیر کر کے حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا ہے۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ اس ریلوے ٹریک کی چوری میں مقامی بااثر شخصیات، پولیس اور کباڑیوں کا ایک منظم نیٹ ورک ملوث ہے۔ اگرچہ ماضی میں کچھ مقدمات درج ہوئے اور گرفتاریاں بھی ہوئیں لیکن پیسے کی طاقت کے سامنے قانون خاموش رہا۔ حیرت انگیز اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ریلوے ٹریک کی چوری کا سلسلہ آج بھی جیکب آباد بائی پاس کے قریب جاری ہے، جہاں بچی کچھی پٹریوں کو بھی کاٹ کر کوڑیوں کے بھاؤ بیچا جا رہا ہے، مگر ریلوے حکام اور ضلعی انتظامیہ کی ʼمجرمانہ خاموشیʼ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لوٹ مار مبینہ طور پر ان کی آشیرباد کے بغیر ممکن نہیں ریلوے لائن کی بندش نے خطے کی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ استا محمد، شہداد کوٹ اور لاڑکانہ سے کراچی پورٹ تک سالانہ لاکھوں ٹن چاول کی سستی ترسیل اب خواب بن چکی ہے۔ تاجر برادری اب مہنگے اور غیر محفوظ ٹرکوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے، جس سے نہ صرف ان کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے بلکہ قومی برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید