• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز کب تک بحری تجارت کیلئے محفوظ ہو گی؟ عالمی معیشت غیر یقینی صورتِحال کا شکار

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ جنگی صورتِ حال کے باعث عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے اور تاحال مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دی جا سکی۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے آغاز کے بعد اس گزرگاہ میں بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار جہاز خلیج میں پھنس گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حتیٰ کہ اگر راستہ کھول بھی دیا جائے تو بھی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔

امریکی حکام کے مطابق سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں کم از کم 6 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک مکمل طور پر خطرہ ختم کرنا تقریباً ناممکن ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب انشورنس کمپنیوں نے بھی صورتِ حال کو انتہائی غیر یقینی قرار دیتے ہوئے جنگی خطرات کی انشورنس معطل یا مہنگی کر دی ہے۔

ماہرین کے مطابق پہلے جہاں انشورنس کی لاگت جہاز کی مالیت کا تقریباً 0.25 فیصد تھی، وہ اب بڑھ کر 1 سے 5 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس راستے کو دوبارہ محفوظ قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی، واضح سیکیورٹی ضمانتیں، بارودی سرنگوں کی مؤثر صفائی اور بحری راستوں پر مکمل کنٹرول قائم ہو۔

ماہرین کے مطابق صرف عارضی جنگ بندی کافی نہیں ہو گی بلکہ طویل عرصے تک بحری آمد و رفت کا بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنا ضروری ہے تاکہ انشورنس کمپنیاں اعتماد بحال کر سکیں۔

یاد رہے کہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اس صورتِ حال کو عالمی تاریخ میں تیل کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے، جو 1970ء کی دہائی کے آئل بحران سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید