کراچی( سید محمد عسکری) محکمہ بورڈز و جامعات کی جانب سے جامعہ کراچی کے ڈین آف لاء کی تقرری میں ایکٹ اور قواعد کی سنگین خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جامعہ کراچی نے ڈین آف لاء بیرسٹر ذیشان ایدھی کے مستعفی ہونے کے بعد نئے ڈین آفلاءکے لیے ناموں کا پینل بھیجا مگر وزیر اعلیٰ ہاؤس نے وائس چانسلر کے سفارش کردہ نام کے بجائے اپنی مرضی سے بیرسٹر سرفراز میتلو کو ڈین آف لا بنادیا جن کا جامعہ کراچی یا اس سے الحاق شدہ کسی ادارے یا لاء ایجوکیشن سے کوئی تعلق نہیں تھا جب کہ ایکٹ اور قواعد کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ انھی ناموں کے پینل میں سے کسی کو ڈین مقرر کرسکتے تھے لیکن انھوں ایسا نہیں کیا اور وائس چانسلر کی مرضی کے خلاف بیرسٹر سرفراز میتلو کو ڈین آف لا بنادیا۔اس سے قبل بیرسٹر ذیشان ایدھی کو بھی خلاف ضابطہ جامعہ کراچی کا ڈین مقرر کیا گیا تھا جب کہ جامعہ کراچی نے اس وقت ڈین آف لاء کے لیے جو پینل بھیجا اس میں لاء یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر اور سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس (ر) قاضی خالد اور ایڈووکیٹ طارق علی کا نام بھی شامل تھا۔ یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے جامعہ کراچی میں ڈین فیکلٹی آف سائنس کی تقرری سے متعلق 2020 کے نوٹیفکیشنز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا اور متعلقہ حکام کو نئی تقرری میرٹ پر کرنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ڈین سائنس کی تقرری کے عمل میں سینارٹی کے اصول کو نظر انداز کیا گیا۔ عدالت کے مطابق درخواست گزار پروفیسر سید جمیل حسن کاظمی کو، جو گریڈ 22 کے سینئر ترین امیدوار ہیں، نظر انداز کیا گیا جبکہ دیگر امیدواروں میں پروفیسر ڈاکٹر ایم عابد حسنین اور پروفیسر ڈاکٹر نصیرہ خاتون شامل تھے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ تین سینئر ترین پروفیسرز کے پینل میں شامل امیدواروں میں تقرری کے لیے شفاف طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا اور سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں حقائق کو درست طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ تقرریاں بدنیتی اور قانونی تقاضوں کے برعکس کی گئیں، اس لیے 4جون 2020اور 3 نومبر 2020کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے حکم دیا تھاکہ ڈین فیکلٹی آف سائنس کے عہدے کے لیے پروفیسر سید جمیل حسن کاظمی اور پروفیسر ڈاکٹر نصیرہ خاتون سمیت متعلقہ امیدواروں کا ازسرنو انٹرویو لے کر دو ہفتوں میں میرٹ اور سینئرٹی کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ عدالت نے مزید ہدایت دی تھی کی کہ آئندہ تقرریوں میں شفافیت اور قانون کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے، جس کے بعد محکمہ بورڈ و جامعات کو ڈین آف سائنس کیا میرٹ کے مطابق فیصلہ کرنا پڑا۔ جنگ نے وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان رشید چنا سے موقف کے لیے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں آپ محکمہ بورڈز و جامعات کے وزیر یا سیکریٹری سے اس بارے میں رائے لیں۔ سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ نے کہا کہ ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور ڈین آف لاء سرفراز میتلو کی تقرری صوبائی محکمہ قانون سے قانونی رائے لینے کے بات کی ہے۔ جنگ نے بیرسٹر سرفراز میتلو سے موقف کے لیے رابطہ کیا تاہم انھوں نے جواب نہیں دیا۔