• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈی جی مانیٹرنگ محکمہ صحت کے دفتر میں 10 ماہ میں 3 کروڑ کا پیٹرول پھونک دیا گیا

کراچی (بابر علی اعوان) محکمہ صحت سندھ کے ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کے دفتر میںمحض دس ماہ کے دوران 3کروڑ 10لاکھروپے سے زائد مالیت کا پیٹرول پھونک دیا گیا، جو اوسطاً یومیہ ایک لاکھ روپے سے زائد بنتا ہے۔ ایک ایسے محکمے کیلئے یہ اخراجات غیرمعمولی قرار دیے جا رہے ہیں جس کی زمینی کارکردگی کا کوئی واضح اور مؤثر ریکارڈ سامنے نہیں آ سکا۔ جنگ کو حاصل سرکاری دستاویزات کے مطابق صرف دو ماہ میں پیٹرول کے اخراجات تقریباً ایک کروڑ روپے تک جا پہنچے۔ اپریل میں62لاکھ 84ہزار 803روپے جبکہ مارچ میں 36لاکھ 63ہزار 476روپے کا پیٹرول استعمال کیا گیا۔ یہ اخراجات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کو شدید معاشی دباؤ، مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا ہے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بیک وقت کفایت شعاری کے دعوے کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق معاملہ محض بھاری اخراجات تک محدود نہیں بلکہ اس میں سرکاری وسائل کے ممکنہ بے دریغ استعمال، مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے خدشات بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ڈی جی مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن عامر ضیاء ایسران نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ بھر میں 116 مانیٹرز فرائض انجام دے رہے ہیں اور یہی عملہ مذکورہ پیٹرول استعمال کرتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب عام شہری مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوں، ایسے میں سرکاری اداروں میں اس نوعیت کے اخراجات کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

اہم خبریں سے مزید