کراچی (بابر علی اعوان) سندھ میں چار ماہ کے دوران خسرہ اور خناق سے 50ہلاکتیں اور سیکڑوں کیسز رپورٹ ہوگئے ہیں۔ صوبہ بھر میں سولہ ہفتوں کے دوران خسرہ کے 33اور خناق کے 4 تصدیق شدہ آؤٹ بریکس (وبائی پھیلاؤ) ہوئے جس نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ اور عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں خسرہ کے 4ہزار 558 مشتبہ کیسز سامنے آئے جن میں سے 1 ہزار 594 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خسرہ سے ہونے والی41اموات میں سب سے زیادہ 14ہلاکتیں ضلع خیرپور میں ہوئیں۔ کراچی شرقی، سکھر اور ٹھٹھہ سے پانچ پانچ ہلاکتیں، لاڑکانہ سے 3جبکہ مٹیاری، بدین، دادو، قمبر، کورنگی، ملیر، کشمور اور شہید بے نظیر آباد سے ایک ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی۔ یہ صورتحال اس لیے بھی سنگین ہے کہ 77 فیصد متاثرہ بچے پانچ سال سے کم عمر ہیں جبکہ 55 فیصد بچے ایسے تھے جنہیں خسرہ سے بچاؤ کا ایک بھی ٹیکہ نہیں لگایا گیا تھا۔ خسرہ کے ساتھ ساتھ خناق (گلے کی خطرناک متعدی بیماری) بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں 79 مشتبہ کیسز میں سے 39 میں تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 9 بچے جاں بحق ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے 67 فیصد بچوں کو خناق سے بچاؤ کی کوئی ویکسین نہیں لگی تھی، جبکہ 78 فیصد کیسز پانچ سال سے زائد عمر کے بچوں میں رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ کے 13 اضلاع بشمول سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، گھوٹکی، دادو، مٹیاری، تھرپارکر، ٹھٹھہ اور کراچی میں خسرہ کی وبا پھیلی۔اسی طرح خناق کے 4 آؤٹ بریکس دادو اور قمبر میں رپورٹ ہوئے۔ وبا کے پھیلاؤ کے بعد محکمہ صحت نے ہنگامی اقدامات شروع کیے، جن کے تحت ایک لاکھ 3 ہزار سے زائد بچوں کو خسرہ و روبیلا سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے، تقریباً 12 ہزار بچوں کو دیگر حفاظتی ٹیکے اور 7 ہزار 800 سے زائد بچوں کو وٹامن اے فراہم کیا گیا۔ خناق کے خطرے کے پیش نظر ہزاروں بچوں کو مشترکہ حفاظتی ویکسین بھی دی گئی، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدامات پہلے کیے جانے چاہیے تھے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کا حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہنا آئندہ مہینوں میں مزید خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی ویکسینیشن ہر صورت مکمل کروائیں، کیونکہ یہی ان مہلک بیماریوں سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے۔