اسلام آباد (رانا غلام قادر/ خالد مصطفیٰ) بھارت نے بگلہیار ڈیم بھرنے کیلئے پانی روک دیا ، چناپ میں قلت آب، پاکستانی حکام کا الرٹ جاری کر دیا، حکام کے مطابق ہفتے کو پانی کا بہاؤ 20,930 کیوسک سے کم ہو کر صرف 9,037 کیوسک رہ گیا، 11,893کیوسک کی بڑی کمی ، اعداد و شمار، پنجاب میں صورتحال سنگین ، خریف کی فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ، انڈس واٹرکمشنر سید علی شاہ نے کہا ہے کہ یہ کمی مقبوضہ کشمیر میں تعمیراتی کاموں کے ذریعے پانی کو کنٹرول کرنے کی وجہ سے ہوئی ، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے بھارتی ہم منصب سے تفصیلات مانگ لی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ہفتہ کے اختتام پر دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی، جس سے بھارت کی جانب سے دریا کے بالائی حصے میں پانی کو کنٹرول کرنے (ریگولیشن) اور اس کے دو طرفہ تعلقات پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ابتدائی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ہفتہ (2 مئی 2026) کو دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ تقریباً 20,930 کیوسک سے کم ہو کر صرف 9,037 کیوسک رہ گیا۔ یہ 11,893 کیوسک کی اچانک اور بڑی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، پانی میں یہ کمی بھارت کی جانب سے بگلیہار ڈیم کو بھرنے کے لیے پانی روکنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز دریا میں پانی کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ یہ صورتحال پاکستان کے اہم زرعی مرکز، پنجاب کے لیے ایک انتہائی نازک وقت پر پیدا ہوئی ہے، جہاں اس وقت خریف کی فصلوں کی بوائی کا سیزن جاری ہے۔ کسان اس وقت کپاس کی کاشت کے لیے کھیت تیار کر رہے ہیں، چاول کی پنیری لگا رہے ہیں اور باغات و دیگر ہریالی کو پانی دے رہے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ دریا کے بہاؤ میں اس طرح کی اچانک کمی بوائی کی سرگرمیوں کو درہم برہم کر سکتی ہے اور فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔ رابطہ کرنے پر پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا ’’جی ہاں، پانی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے۔