• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں ایک اور شہری کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ، پولیس ملوث

کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد میں مبینہ طور پر ایک اور شہری کی شارٹ ٹرم کڈننپنگ کا واقعہ سامنے آگیا ، متاثرہ شہری نے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ ایس ایچ او اور پارٹی انچارج سمیت 15 اہلکاروں کے خلاف ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کو تحریری درخواست جمع کرا دی ، مبینہ متاثرہ شہری شہزاد خان نے اپنی درخواست میں بتایا ہے کہ وہ ٹرانسپورٹر ہے اور ماڑی پور محمدی کالونی کا رہائشی ہے ، 28 اپریل کی رات ساڑھے گیارہ بجے 2 پولیس موبائلوں میں ایس ایچ او ایس ایس آئی یو ممتاز مہر ، پارٹی انچارج نیاز شاہ ، عابد کالا ، مظہر اور دیگر 12 اہلکار اس وقت میرے پاس آئے جب وہ ماڑی پور روڈ لیاری اسٹیشن کے قریب اپنی گاڑی کے انتظار میں موجود تھا ، ان افراد نے بغیر کسی وجہ کے تلاشی لی اور اس دوران میری جیب میں موجود 5 لاکھ 20 ہزار روپے نکال لیے اور واپس نہ دینے پر ان افراد سے میری تلخ کلامی ہوئی جس پر انھوں نے مجھے مارنا پیٹنا شروع کر دیا بعدازاں مجھے زبردستی پولیس موبائل میں ڈالا اور اغوا کر کے ایس آئی یو سی آئی اے سینٹر صدر لے گئے اور مجھے دھمکیاں دیں کہ اگر زیادہ اچھل کود کروگے تو تمہیں منشیات اور دہشت گردی کے مقدمات میں بند کر دیںگے جس کے بعد انھوں صبح 4 بجے 29 اپریل مجھے چھوڑ دیا اور دھمکی دی کہ زیادہ ہوشیاری کی تو پولیس مقابلے میں جان سے مار دینگے ، شہزاد خان نے ڈی آئی جی سی آئی اے سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی اور میری رقم ان سے برآمد کرائی جائے اس حوالے سے ایس ایچ او ایس آئی یو ممتاز مہر سے رابطہ کیا تو انھوں نے شہری کی جانب سے لگائے گئے الزام کی ترید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

ملک بھر سے سے مزید