حیدرآباد (بیورو رپورٹ) حیدرآباد میں شدید گرمی کی لہر نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کردیا ہے جہاں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے‘ شہر میں پارا 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کیا گیا جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا‘ شدید گرمی کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد گھروں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے جبکہ سڑکیں دن کے اوقات میں سنسان دکھائی دے رہی ہیں‘ کاروباری مراکز اور بازاروں میں بھی غیر معمولی سناٹا دیکھا جارہا ہے جس سے معمول کی سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تیز دھوپ اور گرم ہواؤں کے باعث باہر نکلنا مشکل ہوچکا ہے‘ خاص طور پر دوپہر کے وقت حالات مزید خراب ہو جاتے ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی شدید گرمی انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے‘ ہیٹ اسٹروک‘ پانی کی کمی اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے‘ خاص طور پر بچوں‘ بزرگوں اور بیمار افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹروں نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں‘ زیادہ پانی پئیں اور دھوپ میں نکلتے وقت سر کو ڈھانپ کر رکھیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں تک گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔