• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ موخر، عالمی مارکیٹس میں تیزی، تیل کی قیمتیں کم ہوگئیں

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ نامی بحری فوجی اقدام کو موخر کرنے کے اعلان کے بعد بدھ کو بین الاقوامی فنانشل مارکیٹس میں تیزی دیکھنے میں آئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس صورتحال کو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی جانب پیش رفت اور آبنائے ہرمز میں خلل کے خدشات میں کمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی جن کے مطابق واشنگٹن اور تہران ایک صفحاتی مفاہمتی یادداشت پر مذاکرات کر رہے ہیں جس کا مقصد عالمی توانائی کی فراہمی کیلئے ایک اہم حساس مقام آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کو عارضی طور پر روکنا ہے۔ تاہم، ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران صرف ایک ’’منصفانہ اور جامع معاہدہ‘‘ ہی قبول کرے گا، جس سے مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا عندیہ ملتا ہے۔ نئی پیش رفت کے تحت آئل مارکیٹس نے فوری ردِعمل دیا، جہاں جغرافیائی سیاسی خطرات کے پریمیم میں کمی کے باعث وسیع پیمانے پر فروخت دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 7.35؍ فیصد کم ہو کر 101.79؍ ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ اس سے قبل یہ تقریباً 10؍ فیصد کمی کے ساتھ 98؍ ڈالر کے قریب آ گئی تھی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 7.14؍ فیصد کم ہو کر 94.97؍ ڈالر تک گر گیا، جبکہ دورانِ دن یہ 12؍ فیصد سے زائد کمی کے ساتھ تقریباً 89؍ ڈالر تک آ گیا تھا۔ دیگر بینچ مارکس نے بھی اسی رجحان کا مظاہرہ کیا، جن میں مربان کروڈ 7.63؍ فیصد کمی کے ساتھ 97.88؍ ڈالر تک آ گیا۔ قیمتوں میں کمی کا یہ رجحان توانائی کے دیگر شعبوں میں بھی دیکھا گیا۔ پیٹرول کی قیمتیں 5.11؍ فیصد کمی کے ساتھ 3.436؍ ڈالر تک آ گئیں، جبکہ ہیٹنگ آئل 5.73؍ فیصد کمی کے ساتھ 3.799؍ ڈالر تک گر گیا۔ قدرتی گیس کی قیمت 2.87؍ فیصد کمی کے ساتھ 2.708؍ ڈالر تک محدود رہی۔ دبئی، عمان اور بھارتی خام تیل کے اشاریے بھی نیچے آئے، تاہم اوپیک باسکٹ اور میکسیکن خام تیل جیسے کچھ بینچ مارکس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے برعکس عالمی ایکویٹی منڈیوں میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ وال اسٹریٹ میں ایس اینڈ پی 500؍ اور نسدق کمپوزٹ نے اپنی بڑھوتری جاری رکھی۔ یورپی منڈیاں بھی اسی رجحان کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ایف ٹی ایس ای 100؍ میں 1.3؍ سے 2.1؍ فیصد تک اضافہ ہوا، جبکہ جرمن مارکیٹ میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ فرانس کا سی اے سی 40؍ تقریباً 3؍ فیصد تک بڑھ گیا، جہاں ایئرلائنز، ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور صنعتی حصص نے کم ایندھن لاگت کی توقعات پر تیزی دکھائی۔ ایشیائی منڈیاں بھی اس عالمی تیزی کا حصہ بنیں۔ چین کا شنگھائی کمپوزٹ تقریباً 1.2؍ فیصد بڑھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کے او ایس پی 6؍ فیصد سے زائد اضافہ کے ساتھ نمایاں رہا۔ جاپان کا نکئی 225 تعطیل کے باعث بند رہا۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کا بی ایس ای سنسکس عالمی رجحان کے مطابق اوپر گیا، جبکہ پاکستان کا کے ایس ای 100؍ انڈیکس بھی معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا، جسے تیل کی درآمدی لاگت میں کمی کی توقعات نے سہارا دیا۔ اگرچہ منڈیوں کا ردِعمل سفارتی پیش رفت کے حوالے سے امید کی عکاسی کرتا ہے، تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کسی پائیدار معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو صورتحال ایک مرتبہ پھر اتار چڑھائو کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔

اہم خبریں سے مزید